4 جولائی 1986
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۷
مگر وہ کچھ نہ بولے، بالکل خاموشی کے ساتھ اپنے گھر چلے گئے۔ ان کا یہ رویہ ان کے سابقہ رویہ کے سراسر خلاف تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس بدتمیزی کو تم نے کیسے برداشت کیا۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی خاطر۔ میرے بچوں نے مجھ کو برداشت کرنے پر مجبور کر دیا۔ میرے بچے گھر کے باہر سڑک پر نکلتے ہیں۔ میں ہر وقت ان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص محلہ ہی کا آدمی ہے۔ اس کا غصہ اگر بڑھ گیا تو وہ میرے بچوں کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ رشتہ دار بہت بہادر آدمی تھا۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔ وہ بات بات میں لڑ جاتا تھا۔ مگر جب اس کی شادی ہوئی اور اس کے یہاں بچے پیدا ہو گئے تو بچوں کی محبت نے اس کا مزاج بدل دیا۔ مذکورہ رشتہ دار کے اندر یہ خوبی ممکنہ طور پر اس کے بچوں کو پہنچنے والے نقصان کے اندیشہ نے پیدا کی۔ یہ وہ خوبی ہے جو درد کی درس گاہ میں سکھائی جاتی ہے۔ اگر آپ کے اندر درد نہ ہو تو آپ اس معاملہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ ہمارے ملی قائدین صبر اور اعراض کی باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر قوم کا درد نہیں ہے۔ اپنے بچوں کی خاطر ہر آدمی بزدل بنا ہوا ہے۔ مگر قوم کے بچوں کی خاطر کوئی شخص بزدل بننے کے لیے تیار نہیں۔
4 جولائی 1986
مسز اینا کھنہ (Anna Khanna) ایک انگریز خاتون ہیں۔ انگلینڈ میں انھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی ملاقات مسٹر پریم کھنہ سے ہوئی، جو مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے تھے۔ وہ آئی اے ایس ہیں۔ بعد کو دونوں نے شادی کر لی اور اب مسز اینا کھنہ اپنے شوہر کے ساتھ نئی دہلی میں رہتی ہیں۔
مسز کھنہ اگرچہ ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ مگر عیسائیت پر یا مذہب پر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا۔ وہ کبھی چرچ نہیں جاتی تھیں۔ وہ پورے معنوں میں سیکولر تھیں ۔ فروری 1984 میں انگریزی الرسالہ نکلا تو ہم لوگوں کا ربط ان سے قائم ہوا۔ میری لڑکی فریدہ اپنے ترجمہ کیے ہوئے انگریزی مضامین کی نظر ثانی ان سے کراتی تھی۔ شروع کے دو سال اس طرح گزرے کہ وہ اکثر خدا اور مذہب کی باتوں پر فریدہ سے بحث کرتیں۔ بعض مضامین جن میں خدا کو