غصہ نہیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۹
غصہ نہیں
ایک روایت مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي؟ قَالَ: لَا تَغْضَبْ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 23171)۔ یعنی ایک صحابی رسول روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول، مجھے وصیت کیجیے۔ آپ نے کہا: غصہ مت کرو۔ اس آدمی نے کہا: میں نے غور کیا، تو معلوم ہوا کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ غصہ برائیوں کی جڑ کیوں ہے۔ اصل یہ ہے کہ غصہ جب کسی کے اوپر آتا ہے تو وہ مکمل طور پر منفی ذہن کا آدمی بن جاتا ہے۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور منفی سوچ بلاشبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ غصہ وقتی طور پر آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کی صلاحیت کو بے اثر کر دیتا ہے۔ اس وقت مثبت جذبات دب جاتے ہیں اور منفی جذبات ابھر آتے ہیں۔ غصہ آدمی کے اندر انتقام کے جذبات بھڑکا دیتا ہے۔ دونوں فریق کے اندر ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ جذبات ابھر آتے ہیں۔
جب آدمی مخالفانہ جذبے کے ساتھ فریق ثانی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے پر اتر آتا ہے تو اس کے بعد ایک اور برائی پیدا ہوتی ہے، اور وہ ہے چین ری ایکشن (chain reaction)۔ چین ری ایکشن ایسی چیز ہے، جب وہ پیدا ہو جائے تو پھر وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اس چین ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔ ایک کارروائی کے بعد دوسری کارروائی ، پھر تیسری۔ اس طرح ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ چین ری ایکشن بلاشبہ دونوں کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ غصہ ابتدا میں تو غصہ ہے۔ لیکن اپنے انتہا پر پہنچ کر غصہ تمام برائیوں کا سبب بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues