حکیمانہ کلام
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۲۰
حکیمانہ کلام
موجودہ زمانے میں ایک رواج اندازِ کلام ہے، جس کو ماحول کے اثر سے سب لوگ بولتے ہیں۔ یعنی صحافت کی زبان، ہیومن رائٹس کی زبان، پروٹسٹ کی زبان، وغیرہ۔ آج کل مذہبی اور غیر مذہبی دونوں قسم کے افراد یہی بولی بولتے ہیں۔ یہ بولیاں موجودہ ماحول میں چلی ہوئی بولیاں ہیں۔ ان کو بولنے کے لیے کسی مزید تیاری کی ضرورت نہیں۔ ماحول کے زیرِ اثر لوگ اپنے آپ یہ بولی سیکھ لیتے ہیں، اور اس کو دہراتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور غیر مذہبی سب اسی پیٹرن کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس پیٹرن کو ایک لفظ میں احتجاجی انداز کہہ سکتے ہیں۔
اس کے برعکس، دوسری بولی وہ ہے، جو با اصول انسان کی بولی ہو۔ اس قسم کی بولی بولنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ طور پر بطورِ موضوع (subject) تیاری کی جائے۔ اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ چوں کہ لوگ بولنے سے پہلے اس کے لیے ضروری تیاری کے عادی نہیں ہیں، اس لیے یہ بولی ان کے درمیان رائج نہ ہوسکی۔ با اصول بولی وہ ہے، جب بولنے والا انسان پہلے خوب اچھی طرح سوچے، وہ اس کے لیے ضروری مواد (data) اکٹھا کرے ۔ وہ یہ سوچے کہ اس کو اپنے ہر لفظ کا اللہ رب العالمین کے یہاں حساب دینا ہے۔ بولنے سے پہلے اپنی بات کو عقل کے اصول پر جانچے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے، وہ واقعہ حکیمانہ کلام کے معیار پر اترتا ہے یا نہیں۔ اس کا کلام آخرت رخی کلام ہو، نہ کہ دنیا رخی کلام۔
یہی وہ اندازِ کلام ہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (4:114) ۔ یعنی ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ بھلائی والی سرگوشی صرف اس کی ہے جو صدقہ کرنے کو کہے یا کسی نیک کام کے لیے کہے یا لوگوں میں صلح کرانے کے لیے کہے۔ جو شخص اللہ کی خوشی کے لیے ایسا کرے تو ہم اس کو بڑا اجر عطا کریں گے۔ اس آیت میں نجویٰ کا معنی سرگوشی نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے درمیان جو باتیں ہوتی ہیں، وہی باتیں ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues