Al-Risala · July 2025 · page 13

ایک قرآنی پیشین گوئی

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۳

ایک قرآنی پیشین گوئی

قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے : ”اور اللہ نے چوپایوں کو بنایا ۔ ان میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی اور دوسرے فائدے بھی ، اور تم ان میں سے کھاتے بھی ہو۔ اور ان میں تمہارے لیے رونق ہے جب کہ شام کے وقت تم ان کو لاتے ہو اور جب صبح کے وقت تم ان کو چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے بوجھ ایسے مقامات تک پہنچاتے ہیں جہاں تم سخت محنت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ بے شک تمہارا رب بڑا شفیق ، مہربان ہے۔ اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے ، تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے بھی، اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے ”وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ یہاں جس سیاق (context) میں وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے) کے الفاظ آئے ہیں، اس پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ سیاق کی نسبت سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے نقل وحمل کے لیے معلوم حیوانات کے علاوہ کچھ اور چیزیں امکانی طور پر پیدا کی ہیں، جن کا علم تم مستقبل میں حاصل کرو گے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کے نزول کے وقت ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن کے لیے انسان کے پاس صرف حیوانی ذرائع ہیں ،لیکن بعد کوفطرت (nature) میں کچھ ایسی چیزیں دریافت ہوں گی جس کے بعد ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن کے مشینی ذرائع انسان کی دسترس میں آ جائیں گے۔ اس آیت میں دراصل بعد کو آنے والے اس دور کی پیشین گوئی ہے جس کو موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن کا دور(age of communication) کہا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ کا حیوانی نقل و حمل کے دور سے نکل کر مشینی نقل و حمل کے دور میں پہنچنا بلاشبہ ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف انسان کے لیے سفری سہولیات کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، بلکہ اس نے اسی کے ساتھ دین خداوندی کے لیے نئے امکانات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نہ صرف شکر عظیم کا ثبوت دیں، بلکہ وہ عالمی سطح پر منصوبہ تخلیق سے آگاہی کا فریضہ بھی انجام دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page