صحت فکر
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۴
صحت فکر
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کنفیو زن کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے حد اہم مسئلہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگ کنفیوزڈ تھنکنگ (confused thinking) میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو رائٹ تھنکنگ (right thinking) کہا جاتا ہے۔
لوگوں کے اندر سب سے زیادہ کمی یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ صحیح طرزِ فکر کیا ہے اور غلط طرزِ فکر کیا ۔ اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام طور پر لوگ شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اپنی غلط سوچ اور اپنے غلط عمل کی قیمت ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی سازش اور ظلم کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے۔ اِسی بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے، وہاں وہ بولتے ہیں۔ جہاں اقدام نہ کرنا چاہیے، وہاں وہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جہاں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، وہاں وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہیے، اُن کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر اُن سے دور ہو جاتے ہیں ۔ وہ خود ساختہ طور پر دوسروں کو اپنا ’’غیر‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ اس دنیا میں ہر شخص اپنا ہے، کوئی بھی کسی کے لیے غیر نہیں۔ اِسی بنا پر لوگ صبر وتحمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے زیادہ کارگر فارمولا وہی ہے جس کو صبر وتحمل کہا جاتا ہے۔
رائٹ تھنکنگ دراصل سدا فکر (sound thinking) کا دوسرا نام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ آرٹ آف تھنکنگ میں مہارت حاصل کرے۔ اس کے بغیر اس کی پوری زندگی بے معنی ہوکر رہ جائے گی، فکری اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ انسانی سماج میں ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔ اس حقیقت کو آئنلکچول ایمپاورمینٹ (intellectual empowerment) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یعنی لوگوں کو فکری طاقت دینا، اُن کے اندر معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا، ان کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues