Al-Risala · July 2025 · page 22

شکر کا ایک آئٹم

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۲

شکر کا ایک آئٹم

سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 13.8 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) کے ذریعہ موجودہ دنیا کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ یہ ستاروں اور کہکشاؤں سے بھری ہوئی ایک وسیع کائنات تھی۔ اس کائنات میں ملکی وے (Milky Way) کے اندر وہ دنیا تھی، جس کو ہم شمسی نظام (solar system) کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی شمسی نظام کے ایک سیارہ پلانیٹ ارتھ پر انسان آباد ہے۔ یہ ایک پوری طرح کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اس زمین پر بہ سہولت آباد ہو، اور یہاں آزادی کے ساتھ اپنی ایک تہذیب (civilization) بنائے۔ اس قسم کی معلومات انسان کو سائنسی دور سے پہلے نہیں تھی ۔ دوربین، خوردبین اور دوسری ایجادات نے انسان کو وہاں تک پہنچادیا، جہاں انسان اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچا تھا۔ پہلے تو انسان اللہ رب العالمین کو مانتا تھا، لیکن اس کا یہ علم مبنی بر حقائق نہیں تھا، بلکہ مبنی بر عقیدہ تھا۔ یہ اللہ کا انسان کے اوپر بہت بڑا احسان ہے کہ اس کو اللہ نے ریاضیاتی حساب کتاب (mathematical calculation) کی صلاحیت دی۔ اللہ نے آج کے انسان کو یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ موجودات کو وہاں تک دیکھے، جہاں تک اس سے پہلے انسان نے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ اس کی پہنچ عالم کبیر (macro world) سے لے کر عالم صغیر (micro world) تک ہو گئی۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اللہ کی ذات پر مزید گہرائی کے ساتھ یقین کر سکے۔ انسان بہت زیادہ شکر کی زندگی گزارے۔

قرآن میں پیغمبر موسیٰ کی ایک دعا بیان کی گئی ہے۔ اس دعا کا ایک جزء یہ ہے: کَیۡ نُسَبِّحۡکَ کَثِیۡرًا ٭ۙ وَّ نَذۡکُرُکَ کَثِیۡرًا تاکہ ہم دونوں کثرت سے تیری پاکی بیان کریں ۔ اور کثرت سے تیرا چرچا کریں ۔ موجودہ دور میں سائنسی انکشافات کے ذریعہ ظاہر ہونے والی خدائی نشانیاں اس دعا کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ممکن بنا رہی ہیں۔ یہ بلاشبہ انسان کے اوپر اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page