Al-Risala · July 2025 · page 23

شکر کا ایک آئٹم

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۳

فخر کی خوراک بیسویں صدی کے ایک مشہور مسلم شاعر کا شعر ہے:

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے اس شعر کے پہلے مصرعے میں جو بات کہی گئی ہے، اس کا تقاضہ تھا کہ شاعر یہ کہتا کہ اب دنیا کے حالات بدل گئے ہیں۔ اب تم ان تبدیلیوں سے باخبر ہو جاؤ، اور اپنے عمل کی منصوبہ بندی نئے دور کے مطابق کرو۔ ورنہ تم آج کی دنیا میں بے جگہ (misfit) ہو جاؤ گے۔ مگر شاعر نے اس کے برعکس ایک ایسی بات کہہ دی جس سے مسلمانوں کو صرف فرضی فخر (false pride) کی خوراک ملے گی۔ اور کسی قوم کے لیے فرضی فخر سے زیادہ تباہ کن کوئی دوسری چیز نہیں۔

بیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس آیا اور آزادی کا ماحول قائم ہوا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے اندر اسلام کے نام پر بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ ان تمام تحریکوں کا مشترک پہلو یہ تھا کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کو فخر کی غذا دی۔ ہمارا دین سب سے افضل، ہمارا نبی سب سے افضل، ہمارا قرآن سب سے افضل، ہماری امت سب سے افضل، ہماری تاریخ سب سے افضل، ہمارا کلچر سب سے افضل، وغیرہ۔ یہی بیسویں صدی کی تمام مسلم تحریکوں کا مشترک خلاصہ تھا۔ مذہبی رہنما اور سیکولر رہنما دونوں یکساں طور پر اس میں شریک تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم امت، عرب سے عجم تک، فخر پسندی کے ذہن میں مبتلا ہوگئی۔

فخر کوئی سادہ بات نہیں۔ فخر سے برتری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور برتری سے کبر (arrogance) کا مزاج، اور کبر تمام اعلیٰ انسانی اوصاف کا قاتل ہے۔ کبر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواهی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کبر سے تعلم (learning) کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ کبر سے ایڈجسٹمنٹ کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ کبر سے حقیقت پسندی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے، وغیرہ۔ کبر ہر قسم کی مثبت صفات کا قاتل ہے۔ اور جس فرد یا قوم کے اندر مثبت صفات نہ ہوں وہ دنیا کے اعتبار سے بھی ناکام ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی ناکام۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page