سچائی کی دریافت
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۷
سچائی کی دریافت
4 جون 2019 کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں مولانا نظام الدین اصلاحی اعظمی سے بات کر رہا ہوں۔ ان کا تعلیمی ذہن پہلے فراہی اسکول میں بنا۔ اس کے بعد وہ اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہوئے۔ ان دو تحریکات کے درمیان ان کا فکری ڈھانچہ بنا۔ گفتگو میں ان کی بات مجھے یاد نہیں۔ مگر میں نے ان سے جو کہا وہ یہ تھا کہ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان انسان کی کاوشوں سے افکار کا ایک جنگل تیار ہوا۔ آج جو انسان پیدا ہوتا ہے وہ افکار کے اس جنگل کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ سچائی اگرچہ بذات خود ایک محفوظ حقیقت ہے۔ لیکن وہ افکار کے جنگل میں اجنبی ہو چکی ہے۔ یہاں تک کہ افکار کی کثرت نے فتنۂ دُہماء، یعنی مکمل فکری کنفیوزن (utter intellectual confusion) کی صورت اختیار کر لی ہے۔
اب سچائی کو پانے کے لیے نہ کلام عرب کی مہارت کافی ہے، اور نہ کتب خانہ میں موجود روایتی کتابوں کا مطالعہ۔ بلکہ انسان کو اپنی تلاش کا آغاز ”غار حرا“ سے کرنا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ کامل معنوں میں اپنے آپ کو حق کا طالب (truth seeker) بنانا ہے۔
موجودہ زمانہ میں سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) یا ایز اٹ از تھنکنگ حق کے مسافر کے لیے تائیدی علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیث میں اس کو أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ (تفسیر الرازی، جلد 1، صفحہ 119) کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ فی الواقع وہ ہیں۔ آدمی جب تک افکار کے جنگل سے نکل کر ایز اٹ از تھنکنگ کی صلاحیت پیدا نہ کرے، وہ سچائی کی دریافت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) نام ہے مبنی بر حقیقت سوچ کا، جو مکمل ڈی کنڈیشننگ کے بعد آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔ ڈی کنڈیشننگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت بنی رہے گی، وہ کبھی کامل شخصیت کا درجہ نہ پاسکے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues