کامیابی کا اصول
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۸
کامیابی کا اصول
امریکہ کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (1932 .b) نے 1978 میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا: The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History اس کتاب میں ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے پوری انسانی تاریخ سے سو آدمیوں کا انتخاب کیا، جو ان کے نزدیک تاریخ کے سب سے بڑے انسان تھے۔ ان کی اس فہرست میں پہلا نام محمد بن عبد اللہ کا تھا، جو ان کے نزدیک پوری تاریخ انسانی کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کے بارے میں ان کے یہ الفاظ تھے:
He was the only man in history who was supremely
successful on both the religious and secular levels. یعنی وہ تاریخ میں واحد انسان ہیں، جو دنیوی اور مذہبی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ کامیاب انسان تھے۔ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے یہ تو لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب انسان تھے، مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس عظیم کامیابی کا راز کیا تھا۔ برٹش رائٹر ای ای کلیٹ (E E Kellett) جس کی پیدائش 1864 میں ہوئی اور وفات 1950 میں ہوئی۔ اس نے پیغمبر اسلام کی عظیم کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے مصائب کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑا: He faced adversity with the determination to ring succes out of failure. مگر ان الفاظ سے متعین طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ پیغمبر اسلام کی کامیابی کا راز کیا تھا۔ راقم الحروف نے اس اعتبار سے سیرت کا مطالعہ کیا ہے۔ میری دریافت کے مطابق، اس کا راز یہ تھا کہ آپ پر ہر قسم کی مشکلات پیش آئیں۔ لیکن آپ نے کبھی رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ کا طریقہ صرف ایک تھا۔ رد عمل کے بجائے نتیجہ رخی پلاننگ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues