سائنس کا رجحان
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۲
سائنس کا رجحان
اللہ نے سائنس کو خدا کی معرفت کے لیے بطور تائید پیدا کیا ہے۔ لیکن سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد میں سائنس کے دو پہلو ہوگئے تھے۔ ایک، نظری سائنس (basic science)، جس سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا ہے اپلائڈ سائنس۔
یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر اصول کا ایک عملی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً اسپر یچوکیٹی کے عملی انطباق کو اپلائڈ اسپر یچوکیٹی (applied spirituality) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے عملی انطباق کو اپلائڈ سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ یعنی بنیادی طور پر سائنس کے دو شعبے ہیں — بیسک سائنس، اپلائڈ سائنس۔ بیسک سائنس سے مراد نظریاتی سائنس ہے، اس کو پیور سائنس (pure science) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اپلائڈ سائنس سے مراد سائنس کے وہ پریکٹیکل شعبے ہیں، جو کمپیوٹر اور میڈیکل اور انجینئرنگ، وغیرہ کہے جاتے ہیں۔ چار سو سال پہلے جب سائنس شروع ہوئی تو اس وقت سائنس صرف سائنس کے بیسک شعبوں کا نام ہوتا تھا۔ ابتدائی زمانے میں بیسک سائنس کا زیادہ رواج تھا۔ لیکن تمام مادی فائدے اپلائڈ سائنس سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے سارے لوگ اپلائڈ سائنس کی طرف جارہے ہیں، اب بہت کم لوگ نظری سائنس کی طرف جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں مادی فائدہ بہت کم ہے۔ بیسویں صدی میں بیسک سائنس کا شعبہ زیادہ نمایاں تھا۔ اس زمانے میں حقائق سائنس سے زیادہ بحث ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ اکثر بڑے سائنٹسٹ اسی نظریاتی دور میں پیدا ہوئے۔ بیسک سائنس میں جو مشہور ہوئے، ان میں سے چند یہ ہیں: سر جیمس جینز، سر آرتھر ایڈنگٹن، الفریڈ نارتھ وائٹ ہڈ (Alfred North Whitehead)، فرڈہائل (Fred Hoyel)، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں اپلائڈ سائنس کا غلبہ ہوگیا ہے۔ یہ لوگوں کے اندر مٹیریلزم کے پھیلاؤ کی بنا پر ہے، نہ کہ خود سائنس کے تقاضے کی بنا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues