دعا کی حقیقت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۲۴
رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے مامون ہو کر ملے گا۔
بھوپال کے ایک بزرگ تھے شاہ یعقوب مجددی (وفات 1970)۔ ان کی مجلس میں ایک صاحب آیا کرتے تھے، جو داڑھی نہیں رکھتے تھے۔ شاہ صاحب ان کو بار بار تاکید کرتے رہتے تھے۔ ایک دن اس شخص نے کہا کہ حضرت اگر میں داڑھی نہیں رکھتا تو کیا ہوا، داڑھی اسلام میں فرض تو نہیں، صرف سنت ہی تو ہے۔ یہ سن کر شاہ یعقوب صاحب نے کہا کہ داڑھی بلاشبہ سنت ہے، لیکن تمہار الہجہ کفر ہے۔ ان کی بات کا مطلپ یہ ہے کہ بے عملی گناہ ہے۔ مگر سرکشی اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ بے عملی کے ساتھ اگر شرمندگی ہو تو شاید اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو معاف کر دے۔ مگر جو شخص بے عملی کے ساتھ سرکشی دکھا رہا ہو وہ قابل معافی نہیں ۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں اصل اہمیت شدت احساس کی ہے، نہ کہ ظاہری عمل کی۔
دعا کی حقیقت
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعا زبان سے کچھ متعین الفاظ کی تکرار کا نام ہے۔ یعنی کچھ پر اسرار نوعیت کے مقرر الفاظ ہیں، ان کو اگر صحیح تلفظ کے ساتھ انسان دہرالے تو ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ دعا اسپرٹ کا نام ہے، جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ بندے کی زبان سے نکلتی ہے۔ دعا کی حقیقت یہ ہے کہ یہ رب العالمین کے سامنے اپنے عجز کو رجسٹر کرنا ہے، نہ کہ رب کے سامنے چندرٹے ہوئے الفاظ لب سروس کے طور پر دہرا کر اپنی حاجت کو مانگنا۔ جب ایک بندہ اپنی حالت احتياج کو دريافت کرتا ہے، تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ دعا یہ ہے کہ انسان کا داخلی احساس لفظوں میں ڈھل جائے۔ خدا کے مقابلے میں بے بسی کی دریافت انسان کے لیے اس کے پورے وجود کی زبان بن جائے۔ دراصل یہی اسپرٹ ہے، جو کسی دعا کو مقبول دعا بناتی ہے۔ دعا کے الفاظ دعا کرنے والے انسان کی قلبی کیفیت کو بتاتے ہیں، وہ محض زبان سے کچھ کلمات کی ادائیگی کا مظاہرہ نہیں ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues