Al-Risala · July 2025 · page 34

سیاسی اقتدار

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۴

سیاسی اقتدار

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (3:26)۔ تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک تو جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے، اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

سیاسی اقتدار اجتماعی نظم (administration) کا ایک حصہ ہے۔ وہ عمومی مصلحت کے تحت کبھی ایک گروہ کو ملتا ہے، اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ اقتدار خواہ کسی گروہ کو دیا جائے، یا اس سے واپس لے لیا جائے، دونوں عارضی ذمے داری کے معاملات ہیں۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو مثبت سوچ کے تحت قبول کریں، جس کو دیا جائے، وہ بھی، اور جس سے واپس لیا جائے، وہ بھی۔ اس اصول کی روشنی میں مسلم تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ مسلم تاریخ کا آغاز ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں ہوا۔ تقریباً ایک ہزار سال تک قدیم آباد دنیا کا ایک متعین رقبہ مسلم قوموں کے زیرِ انتظام رہا۔ تقریباً ایک ہزار سال کے بعد یہ اقتدار ان سے لے کر دوسری قوموں کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں کا اقتدار دنیا پر قبل از سائنسی تہذیب دور (pre-scientific age) میں رہا، اور ان سے اقتدار لے لیا گیا جب کہ سائنسی تہذیب کا دور (post-scientific age) آ گیا۔ سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے والے وہ لوگ تھے، جن کو مغربی اقوام کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن وسنت میں جو حوالے ملتے ہیں، ان کا مطالعہ تطبیقی انداز (applied way) میں کیا جائے تو اس معاملے کی حکمت واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔

جب قرآن اترا اور امت محمدی کو اس کی ذمے داری سونپی گئی تو اس ذمے داری کے دو بڑے حصے تھے ۔ ایک، حفاظت حق (الحجر، 15:9) اور دوسرا، تبیین حق (فصلت، 41:53)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ امت مسلمہ کو جو اقتدار دیا گیا، اس کو انھوں نے حفاظت دین کے معاملے میں بحسن وخوبی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page