سیاسی اقتدار
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۵
انجام دیا، لیکن فطرت کے قانون (الحدید، 57:16) کے مطابق، امت مسلمہ پر زوال کا دور آیا۔ اب ان کا حال وہ ہو گیا جو قرآن میں قوم یہود کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا (62:5)۔ یعنی، ان لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا پھر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا۔
موجودہ دور میں امت مسلمہ اپنی مسجدوں، اپنے مدرسوں، اور اپنے اداروں کی شکل میں دین کے محافظ تو بن گئے، لیکن زمانے کے اعتبار سے دین کی تبیین مزید کے لیے وہ نااہل ہو گئے۔ اس کی ایک ظاہری وجہ یہ ہے کہ اجتہاد کے فقدان کی بنا پر وہ بصیرت زمانہ سے محروم ہو گئے اور عصری تقاضے کے مطابق دین کی تطبیق سے قاصر رہے۔
اب اللہ تعالیٰ کے قانون استبدال (محمد، 47:38) کے مطابق، حالات میں تبدیلی آئی۔ ملت مسلمہ کے لوگ فارم کی سطح پر دین کا حفاظتی ڈھانچہ بدستور برقرار رکھے ہوئے تھے۔ لیکن زمانے کے تقاضے کے مطابق دین کی تبیین مزید (فصلت، 41:53) میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئے تھے۔ یعنی، قرآن کے الفاظ میں آیات وانفس کی دریافت کے ذریعے حق کی تبیین مزید کرنا۔ تاریخ کا یہ مرحلہ (juncture) انیسویں صدی کے خاتمہ اور بیسویں صدی کے آغاز کے وقت پیش آیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے تقسیم کار کے اصول کو استعمال کیا، یعنی مغربی قوموں کو تائید کا رول (supporting role) اور امت مسلمہ کے واسطے دین کے لیے پیدا شدہ مواقع کو ممکنہ طور پر اویل (avail) کرنے کا رول۔ اس تائیدی رول کا ذکر حدیث کی کتابوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ اس معاملے میں صحیح البخاری (حدیث نمبر (3062) کی روایت سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بالفرض یہ مؤیدین امت مسلمہ کو فاجر دکھائی دیں، تب بھی دین کے معاملے میں اپنے مؤید کی حیثیت سے ان کو قبول کرنا چاہیے۔ اگر مسلمان اس قبولیت میں ناکام رہیں تو وہ خود اپنی ذمے داری کو پورا کرنے میں ناکام ہو جائیں گے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے، جہاں مسلمان اپنی ذمے داری کو ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues