Al-Risala · July 2025 · page 36

مین میڈ ، گاڈ میڈ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۶

مین میڈ ، گاڈ میڈ

بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر 28 جولائی 2017 کو ایک رپورٹ اس عنوان سے چھپی تھی: ”کیا مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی؟ “ آکسفورڈ یونیورسٹی کے فیوچر آف ہیومنٹی انسٹی ٹیوٹ کی کٹجا گریسی (Katja Grace) اور ان کے ساتھیوں نے اس موضوع پر کافی کام کیا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے 352 سائنس دانوں سے بات کر کے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس ریسرچ کے مطابق اس بات کی پچاس فیصد امید ہے کہ اگلے سوا سو سال میں انسان کا ہر کام مشینیں کریں گی۔ روبوٹ کے تعلق سے برابر خبریں آتی رہتی ہیں۔ مگر کیا ایسا ہو سکتا ہے۔ مذکورہ ریسرچ میں سب سے حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ مشینیں اتنی تیزی سے بہتر نہیں ہو رہی ہیں جتنا کہ سائنسدان دعوی کر رہے تھے۔ مشینوں کا دور آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ اس ریسرچ میں آٹومیٹڈ انسائٹس (Automated Insights) کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایڈم سمتھ کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانوں کی مدد کرنا ہے۔ وہ انسانوں کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتی۔ مشینوں کے ذریعے صحافت پہلے نہیں تھی لیکن اب بھی جو مضامین اے آئی (AI) تیار کرتے ہیں، ان میں انسانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ روبوٹ ایک انسان میڈ پروڈکٹ ہے، وہ اس ذہانت اور صلاحیت کو ہرگز نہیں پا سکتا، جو خود انسان کے اندر موجود ہے۔ اس حقیقت کو ذیل کے واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے: 9 جنوری 2022 کو بزنس انسائڈر (انڈیا) کی ویب سائٹ پر چھپی ایک دل چسپ رپورٹ کے مطابق، یونائیٹڈ کنگڈم کے ایک قصبہ ملٹن کینز (Milton Keynes) میں ایک ریسٹوراں نے چار روبوٹ کسٹمرز کو کھانا سرو (serve) کرنے کے لیے جاپان سے خریدا تھا۔ مگر بعد میں ریسٹوراں کے مالک کی یہ رائے بنی کہ مشین انسان کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اس کا کہنا ہے کہ روبوٹ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page