7 جولائی 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۰
ڈائری 1986
جناب سکندر بخت صاحب (پیدائش 1918ء) تشریف لائے۔ مسلمانوں میں وہ عام طور پر بدنام ہیں۔ مگر گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ان کے اندر مسلم ملت کا درد ہے اور وہ مسلمانوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ (2004 میں ان کا انتقال ہو گیا)
سکندر بخت صاحب نوجوانی کی عمر سے سیاست میں رہے ہیں۔ انہوں نے مسٹر محمد علی جناح (1876-1948) کا ایک واقعہ بتایا جن کو مسلمانوں نے قائد اعظم بنایا تھا۔ کسی مقام پر مسلم لیگ کا اجلاس تھا۔ مسٹر جناح وہاں تقریر کرنے کے لیے گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلم عوام کافی تعداد میں جمع ہیں، مگر اخبار کے نمائندے نظر نہیں آئے۔ مسٹر جناح نے اجتماع کے منتظمین سے کہا: Where are the pressmen? Do you think I came here to اخباری نمائندے کہاں ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں ان بے وقوفوں کو خطاب کرنے کے لیے یہاں آیا ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسٹر جناح مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر جناح کو مسلمانوں میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی ۔ اور وہ یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کو وہ سیاسی خوراک دی جو اس ملک کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ مرغوب ہے، یعنی قومی فخر اور اینٹی نان مسلم جذبات کو فیڈ کرنا۔
7 جولائی 1986
فقہ کی مشہور کتاب ہے جس کا نام شامی (یا فتاویٰ شامیہ) ہے۔ یہ علامہ ابن عابدین شامی کی طرف منسوب ہے۔ شامی کا اصل نام "رد المحتار علی الدر المختار" ہے۔ رد المحتار حاشیہ ہے در مختار کا اور درمختار شرح ہے تنویر الابصار کی۔
یعنی تنویر الابصار متن، در مختار شرح اور رد المحتار حاشیہ در مختار کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues