Al-Risala · July 2025 · page 39

اسپین کا سبق

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۹

اسپین کا سبق

میں نے دو بار اسپین کا سفر کیا ہے، اور اسپین کے حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ اسپین میں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک قیمتی مثال ہے۔ اسپین میں عبد الرحمن الداخل کی قائم کردہ حکومت ایک لمبی مدت قائم رہی۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے عربوں کو حملہ آور کے خانے میں ڈال دیا۔ ایک مدت تک یہ چلا کہ عربوں کو مارو، اور باہر نکالو۔ لیکن کچھ عرصہ بعد اسپینیوں کو محسوس ہوا کہ یہ ہم خود اپنے اثاثے سے اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں۔ اس مدت میں اسپین کی اکانومی کی ترقی رک گئی ۔ وہ منفی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے۔ لیکن پھر انھوں نے یہ دیکھا کہ اسپین میں عربوں کے دور کے بہت سے تاریخی آثار ہیں، جو سیاحوں کو اٹریکٹ (attract) کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے ان تاریخی آثار کو دوبارہ ڈیولپ کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ اسپین دوبارہ سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن گیا۔ اسپین میں سیاحوں کی آمد اتنی بڑھی کہ اسپین جو پہلے غیر ترقی یافتہ ملک بن گیا تھا، وہ دوبارہ مزید اضافے کے ساتھ ایک ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ سیاحت نے موجودہ اسپین کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

قدیم اسپین جو اہل اسپین کے لیے اس سے پہلے ان کی منفی سوچ کی بنا پر ایک بوجھ (liability) بن گیا تھا، وہ دوبارہ اہل اسپین کی مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے سرمایہ (asset) بن گیا۔ پہلے جو چیز اسپین کی تاریخ کا معمولی حصہ بنی ہوئی تھی، اب وہ اس کی تاریخ کا غیر معمولی حصہ بن گئی۔ اسپین کے واقعے میں انسان کے لیے یہ سبق ہے کہ وہ اپنے سماج کا سرمایہ (asset) بن کر زندگی گزارے تو کسی کو اس سے شکایت نہ ہوگی۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ صبح وشام لوگوں کے درمیان وہ جس سلوک کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ کیسا ہے۔ وہ تعمیری ہے یا تخریبی، وہ مثبت ہے یا منفی۔ اس کے اندر جو شخصیت بن رہی ہے، وہ خیر خواہی پر مبنی پرسنالٹی ہے، یا استحصال (exploitation) پر مبنی پرسنالٹی۔ وہ سماج کا ایک دینے والا ممبر (giver member) ہے یا لینے والا ممبر، اس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان، وغیرہ۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو زندگی کی اس نوعیت کو سمجھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page