7 جولائی 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۲
چاہتا ہوں ۔ ان کا کاروبار زیادہ تر حکومت کے محکموں سے ہے ۔ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ان کے سرکاری ٹھیکے چل رہے ہیں ۔ اس طرح ان کا کاروباری تعلق جن لوگوں سے ہے ان میں 99 فیصد ہندو ہوتے ہیں ۔ ان ہندوؤں سے وہ بہترین تعلقات بنائے ہوئے ہیں ۔ ان سے میٹھی گفتگو کرنا ، ان کو تحفے دینا ، ان کی ضرورتوں میں کام آنا ، ان کو خوش کرنے کا ہر طرح سے جتن کرنا ، وغیرہ ۔ مگر دوسری طرف ان کا یہ حال ہے کہ جب بھی مجھ سے ملتے ہیں تو کسی نہ کسی بہانے ہندو قوم اور ہندو حکومت کی برائی کرتے ہیں ۔ اپنے معاملہ دار ہندوؤں کے لیے وہ تالیف قلب کے اصول پر عامل ہیں ۔ مگر دوسرے ہندوؤں کے لیے وہ پوری طرح مسلم قوم پرست بنے ہوئے ہیں ۔ یہی ہندوستان کے تقریباً تمام مسلمانوں کا طریقہ ہے ۔ اس ملک کا ہر مسلمان ، خواہ وہ اصاغر میں سے ہو یا اکابر میں سے ، ڈبل اسٹینڈرڈ کا کیس بنا ہوا ہے ۔ وہ اپنے صاحب معاملہ ہندو کے لیے کچھ اور ہے اور دوسرے ہندوؤں کے لیے کچھ اور ۔
کیسے عجیب ہیں وہ مسلمان جن کو خود اپنی زندگی کے تجربے سے سبق نہیں ملتا ۔ 9 جولائی 1986 7 جولائی 1986 کے تمام اخبارات کی شاہ سرخی صرف ایک تھی: ”جگ جیون رام کا انتقال ہوگیا“ جگ جیون رام (1986-1908) ڈاکٹر امبیڈکر کے بعد دوسرے سب سے بڑے ہریجن لیڈر تھے۔ ان کو جدید ہندوستان میں عظیم ترین سیاست دانوں کی فہرست میں جگہ ملی۔ مگر جنتا حکومت کے بعد جب ان کا زوال ہوا تو پھر وہ دوبارہ اٹھ نہ سکے۔ دہلی کے ایک انگریزی اخبار نے ان کی موت پر اپنے اداریہ میں لکھا:
In the death of Jagjiwan Ram the country lost one of the last leading representatives of the pre-independnce era. Babuji had a messianic sense of mission wich he shared with our greats like Nehru and Mrs. Gandhi. But the great reaper precluded his return to glory. (The Hindustan Times, July 8, 1986)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues