Al-Risala · July 2025 · page 43

The Life of Mahatma Gandhi by Louis Fischer

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۳

جگ جیون رام کی موت نے ملک کو قبل از آزادی دور کے بڑے نمائندوں میں سے ایک سے محروم کر دیا۔ بابو جی (جگ جیون رام مقصد کا ایک مسیحائی شعور رکھتے تھے۔ وہ نہرو اور مسز گاندھی جیسی بڑی شخصیتوں کے رفیق رہے۔ مگر موت ان کے لیے مانع بن گئی کہ وہ دوبارہ اپنی عظمت کی طرف واپس ہو سکیں ۔

اخبار کے ایڈیٹر کی نظر میں بظاہر صرف "جگ جیون رام" جیسے لوگ ہیں، جن کے لیے موت ان کی آخری عظمت تک پہنچنے میں رکاوٹ بن گئی۔ لیکن ایڈیٹر اگر موت کے اس پار تک دیکھ سکتا تو اس کو نظر آتا کہ بہت سے وہ دوسرے لوگ بھی اپنی آخری عظمت سے یکسر محروم ہیں، جن کا نام اخبار کے ایڈیٹر نے عظمت کی چوٹی تک پہنچنے والے انسانوں کی فہرست میں نمایاں طور پر لکھ رکھا ہے۔ 10 جولائی ایک عرب ڈپلومیٹ ہندوستان سے واپس جانے لگے تو روانگی سے ایک دن پہلے وہ ہمارے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھ ان کی بڑی گاڑی میں بہت سی کتابیں بھی لدی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری ذاتی لائبریری کی کتابیں ہیں ۔ دہلی کے زمانہ قیام میں، میں نے ان کو اپنی رہائش گاہ پر جمع کیا تھا۔ اب ہندوستان چھوڑتے ہوئے میں ان کتابوں کو اسلامی مرکز کے کتب خانے کے حوالے کر رہا ہوں۔

یہ کتابیں سب کی سب دو زبانوں میں تھیں، عربی اور انگریزی۔ ایک کتاب گاندھی جی کی مشہور سوانح عمری تھی:

The Life of Mahatma Gandhi by Louis Fischer

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کتابوں کے ذخیرے میں مہاتما گاندھی کی لائف بھی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مہاتما گاندھی کے عقیدت مندوں میں سے ہیں؟ ۔ وہ یہ سوال سن کر مسکرائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں۔ یہ کتابیں میرے شخصی ذوق سے زیادہ میرے ڈپلومیٹ ہونے کی حیثیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ کسی ملک کا ڈپلومیٹ جب دوسرے ملک میں جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page