12 جولائی 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۵
گاندھیائی تحریک یا ایران کی خمینی تحریک ۔ ہر ایک نے یہی کیا کہ روایات کو توڑ کر انقلاب لے آئے ، اور روایات کو توڑ کر نیا سماج بنانا چاہا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بلا استثنا ہر ایک کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی۔ انسانی سماج ہمیشہ روایات کے زور پر عمل کرتا ہے اور روایات کے زور کو یہ تحریکیں پہلے ہی ختم کر چکی تھیں ۔
اس عموم میں صرف ایک نمایاں استثنا ہے اور وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ پیغمبر اسلام تاریخ کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے روایات کو توڑے بغیر انقلاب برپا کیا اور روایات کو توڑے بغیر اپنی مطلوبہ اصلاحات رائج کیں۔ آپ کی زندگی کا تنہا یہی پہلو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ خدا کے رسول تھے ۔
12 جولائی 1986
امریکن رائٹر امبروز بیرس (1914-1842 ,Ambrose Gwinnett Bierce) کا ایک قول ہے :
Philosophy is a route of the many roads leading from nowhere to nothing. فلسفہ بہت سے راستوں کا ایک سفر ہے جو کہیں سے نہ شروع ہوتا اور نہ کہیں ختم ہوتا ہے۔ فلسفہ کو قدیم زمانے میں علوم کی ملکہ (Queen of Arts) کہا جاتا تھا۔ پچھلے 5000 سال کے اندر اعلیٰ ترین دماغوں نے فلسفہ کے میدان میں اپنی محنتیں صرف کی ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفہ کی تحقیق پر جتنا کام ہوا ہے ، اتنا کسی بھی دوسرے شعبہ علم میں نہیں ہوا۔ اس کے باوجود فلسفہ ہی واحد علمی شعبہ ہے جس کا کوئی مثبت حاصل نہیں۔ فلسفہ نے ذہنی الجھاؤ اور پر پیچ بحثوں کے سوا انسان کو کچھ اور نہیں۔ حتیٰ کہ آج تک یہ بات بھی واضح نہ ہوسکی کہ فلسفہ کا آغاز کیا ہے اور اس کا انتہا کیا۔ فلسفہ کی اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ فلسفہ ایک ایسے میدان میں کام کر رہا ہے جہاں کوئی حقیقی کامیابی حاصل کرنا اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
فلسفہ کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے : آخری حقیقت (ulltimate reality) کو عقل کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues