Al-Risala · July 2025 · page 44

11 جولائی 1986

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۴

ہے تو اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس ملک کے حالات کو جانے گا اور وہاں کی ممتاز شخصیتوں سے باخبر ہوگا۔ یہی وہ چیز ہے، جس کی بنا پر میں نے ہندوستان میں آنے کے بعد مہاتما گاندھی کو پڑھا، جن کو Father of the Nation کہا جاتا ہے۔

اکثر غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی پوری بات جانے بغیر رائے قائم کر لیتا ہے۔ مذکورہ واقعہ کو اگر ایک شخص بلا تحقیق دیکھے تو وہ یہ رائے قائم کر لے گا کہ عرب ڈپلومیٹ مہاتما گاندھی سے متاثر تھا۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ اس کا تعلق ڈپلومیٹ کی سرکاری ڈیوٹی سے تھا، نہ کہ اس کے ذاتی ذوق سے۔

11 جولائی 1986

مہاتما گاندھی ہندوستان کے عوام کو انگریز کے خلاف اٹھانا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہیں بہت سی روایات توڑ دینی پڑیں۔ طالب علموں کو انہوں نے اکسایا کہ وہ تعلیم چھوڑ کر سڑکوں پر آجائیں۔ مزدوروں کو انہوں نے اکسایا کہ وہ ہڑتال کر کے کاروبار کو مفلوج کر دیں۔ کسانوں کو انہوں نے اکسایا کہ وہ زمینداروں کی بڑائی تسلیم نہ کریں۔ ٹیکس دینے والوں کو انہوں نے اکسایا کہ وہ گورنمنٹ کو ٹیکس نہ دیں۔ مہاتما گاندھی نے عوام کی طاقت سے آزادی حاصل کر لی۔ مگر یہ آزادی روایات کو توڑ کر حاصل ہوئی تھی۔

روایات کو توڑنے کا یہ سلسلہ آزادی کے بعد مزید شدت کے ساتھ جاری رہا۔ ہر شعبہ میں جلد ترقی کے جوش میں روایات توڑی جاتی رہیں۔ حتی کہ اس ملک میں روایات کا تسلسل ختم ہو گیا۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ دہلی کے ڈسٹرکٹ جج مسٹر مہیش چندر کو ترقی دے کر دہلی ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا ہے۔ یہ تقرری روایات کو توڑ کر ہوئی ہے۔ انگریزوں کے زمانے سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ سینیارٹی کی بنیاد پر ترقیاں دی جاتی تھیں۔ دہلی میں مسٹر مہیش چندر کے مقابلہ میں دو سینئر جج تھے جو ترقی کے اولاً مستحق تھے، مگر ان کو چھوڑ کر مسٹر مہیش چندر کو ترقی دے دی گئی۔ یہی تمام انقلابی تحریکوں کا حال ہوا ہے۔ خواہ وہ روس کی کمیونسٹ تحریک ہو یا ہندوستان کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page