12 جولائی 1986
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۹
س: مدرسہ کے فارغ علما اور یونیورسٹی کے تربیت یافتہ دانش وروں کے درمیان جو شدید دوری اور ثنویت پیدا ہوگئی ہے، آپ کی رائے میں اسے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟
ج: میرے بچپن میں یہ دوئی اتنی واضح نہیں تھی۔ اس وقت سیکولر تعلیم گاہیں اخلاقی اقدار سے اس قدر دور نہیں تھیں لیکن اب صورتحال بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ دونوں طبقوں کے درمیان اس دوئی اور کھائی کو دور کرنے اور پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں نظام تعلیم کے طلبہ واساتذہ کے درمیان خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، زیادہ سے زیادہ اختلاط اور میل جول ہو۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا۔ بہت سے ہند ومدرسوں میں پڑھتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ چونکہ اب ان دونوں طبقوں کے درمیان اس نوع کا میل ملاپ اور باہمی قربت باقی نہیں رہی، اس لیے ان دونوں کے اندر مفاہمت کی کمی پائی جاتی ہے۔ س: بعض علما آپ کی اس رائے پر چیں بہ جبیں ہوں گے اور کہیں گے کہ اس طرح کے میل جول سے مدرسہ کے طلبہ کی مذہبی نفسیات پر برا اثر مرتب ہوگا۔ اس تعلق سے کیا کہنا چاہیں گے؟ ج: مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ہر کسی سے سیکھتے تھے اور ان کا یہ سیکھنا مختلف قسم کے لوگوں سے میل جول کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسروں کے ساتھ میل جول کے ذریعہ آپ اپنی اخلاقیات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیز اس کے ذریعہ آپ دوسرے لوگوں کی صحیح شناخت اور ان کا احترام بھی کر سکتے ہیں۔ مدارس اور ان کے طلبہ کو دوسروں کے ساتھ میل ملاپ پر مائل کرنے اور ان کو مدرسہ کی چہار دیواری سے باہر نکالنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے ان کے اندر مشنری اسپرٹ بھر دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مدارس کی طرف سے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں مدارس اور یونیورسٹیز کے لوگوں کو، جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہوں ، بلایا جائے۔ یہ طریقہ دونوں طرف معلومات کے دروازے کو کھولنے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا زبردست ذریعہ ہوگا۔ خود میری مثال لیجیے! میں روزانہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر کے لوگوں سے ملتا ہوں۔ میں اسے اللہ کی نعمت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعہ میں مختلف طرح کی معلومات ، دوسروں کے تعلق سے انسانی جذبہ یگانگت، نئے تجربات اور اخلاقی اقدار سیکھتا اور حاصل کرتا ہوں۔ (جاری)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues