Al-Risala · January 2025 · page 26

زہد ایک عظیم عمل

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۲۶

زہد ایک عظیم عمل

صحابی کون ہے ۔ صحابی وہ ہے، جس نے رسول اللہ کی صحبت سے استفادہ کیا، جس نے رسول اللہ سے براہ راست طور پر دین خداوندی کو اخذ کیا۔ انھیں میں سے ایک صحابی کا نام ابو واقد اللیثی (وفات 68ھ) ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: تَابَعْنَا الأَعْمَالَ فِي الدُّنْيَا، فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا أَبْلَغَ فِي عَمَلِ الآخِرَةِ مِنَ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا (الزہد لوکیع بن الجراح، اثر نمبر 3)۔ یعنی ہم نے دنیا کے اعمال میں غور کیا، تو ہم نے آخرت کے لیے سب سے اچھا عمل زہد فی الدنیا کو پایا۔ زہد کا مطلب ہے دنیا سے بے رغبت۔ اس سے مراد کسی انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ اپنے مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعے خدا اور آخرت میں اتنا زیادہ گم ہو جائے کہ اس کی دلچسپیاں تمام تر خدا اور آخرت سے وابستہ ہوجائیں۔ خدا اور آخرت سے اس کی رغبتی اتنی زیادہ بڑھے کہ وہ ہر دوسری چیز سے بے رغبت ہوجائے۔

ایسا انسان ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ بظاہر وہ دوسروں کی طرح اسی دنیا میں جیتا ہے، لیکن اپنی فکر کے اعتبار سے وہ آخرت کی مخلوق بن جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے تو اللہ رب العالمین کے لیے، وہ جیتا ہے تو اللہ رب العالمین کے لیے، اس کو کسی سے ملنے کا شوق ہوتا ہے تو وہ اللہ رب العالمین سے ملنے کا شوق، اس کو کسی چیز کی رغبت ہوتی ہے تو اللہ رب العالمین کی رحمت کو پانے کی رغبت ہوتی ہے، اس کا وہ حال ہوجاتا ہے جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165)۔ یعنی اللہ رب العالمین کے ساتھ حب شدید کا ہونا۔

زہد اعلی ایمان کی صفت ہے۔ زہد اللہ سے قربت کی پہچان ہے۔ زہد جنتی انسان کا اخلاق ہے۔ زاہد انسان قرآن کا مطلوب انسان ہے۔ زاہد انسان وہ ہے، جس کو آخرت میں وہ درجہ ملے گا، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page