Al-Risala · January 2025 · page 27

تواضع کی صفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۲۷

تواضع کی صفت

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھے یہ پیشکش کی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں (وَلَکِنْ أَشْبَعُ يَوْماً، وَأَجُوعُ یَوْمًا)۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 22190) انسانی زندگی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اس کے پاس بطور عطیہ ہے۔ یعنی خدا نے دنیا کی تمام چیزیں اس کو یک طرفہ طور پر عطا کی ہیں۔ اگر انسان ایسا سوچے تو اس سے آدمی کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوگی۔ وہ ڈرے گا کہ جس خدا نے دیا ہے وہ اس کو دوبارہ اس سے چھن نہ لے۔ مگر غافل لوگ اس عطیہ کو اپنا ذاتی حق سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا یہی احساس ان کو ظالم اور متکبر بنا دیتا ہے۔

انسان کو جو کچھ بھی ملا ہوا ہے، وہ اس کے لیے اللہ کا عطیہ ہے۔ اس کا احساس عام طور پر انسان کو اس وقت ہوتا ہے، جب کہ اس سے وہ چیز چھین جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسی کائنات میں ہے جہاں ستارے اور سیارے اس کی ہر برتری کی نفی کر رہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبر بن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑ اور سرکشی کا۔ اس دنیا میں انسان کو متواضع بن کر رہنا چاہیے تا کہ وہ ان تجربات سے سبق حاصل کرنے والا بنے۔ محرومی کا احساس اس دنیا کے اندر تواضع کی صفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، اور تواضع انسان کے اندر اعلی انسانی کردار پیدا کرتا ہے۔ جو آدمی پوری اسپرٹ کے ساتھ تواضع کا طریقہ اختیار کرے، اس کے اندر یہ عمومی مزاج پیدا ہو جائے گا کہ وہ ناخوش گوار باتوں کو برداشت کرے، وہ لوگوں کی قابل شکایت باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزارے گا، وہ متواضع انسان، یعنی مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page