Al-Risala · September 2025 · page 5

تمهید

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۵

حدیث کی کتابوں میں ایک مسنون دُعا ان الفاظ میں آئی ہے: اَللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ ( صحیح بخاری، حدیث نمبر 1889؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1376)۔ یعنی، اے اللہ! ہمیں مدینہ سے اسی طرح محبت دے جیسے تُو نے ہمیں مکہ سے محبت دی ہے۔

اس حدیث میں گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی جائے پیدائش اور جائے عمل سے محبت کی دعا کرنی چاہیے۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آتے، اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت کے تحت (مِنْ حُبِّهَا) اپنی سواری تیز فرما دیتے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1886)۔

صرف وطن سے نہیں، بلکہ وطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی محبت ہونی چاہیے۔ مثلاً احد کا پہاڑ مدینہ کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کرتا تھا، آپ نے احد پہاڑ کے لیے فرمایا: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ( صحیح البخاري، حدیث نمبر 2889)۔ یعنی، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی یہ احادیث وطن سے جُڑے گہرے جذبات اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کرتی ہیں۔ شارحین حدیث نے بھی ان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ احادیث وطن سے محبت اور تعلق کو جائز قرار دینے کی دلیل ہیں (عمدة القاري للعيني، جلد 10، صفحہ 135؛ فتح الباري لابن حجر، جلد 3، صفحہ 621)۔ برصغیر کے معروف محدث اور فقیہ مولانا زکریا کاندھلوی (1982-1898) نے اس کو مزید واضح کیا ہے کہ ”اسی طرح کا حکم مدینہ کے سوا تمام شہروں، علاقوں اور وطنوں کے بارے میں بھی ہے جن کی طرف میلان ہو اور جو محبوب ہوں“: كَذَلِكَ الْحُكْمُ فِي غَيْرِ الْمَدِينَةِ مِنَ الدِّيَارِ المَرْغُوبَةِ فِيهَا، وَالأَوْطَانِ المَحَبَّبَةِ فِيهَا (اللامع الدراري، جلد 5، صفحہ 279)۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بعد ختم ہوگیا، بلکہ بعد میں آنے والے متعدد علما، صوفیا اور شعرا کی تحریروں میں بھی اسی جذبے کی بازگشت ملتی ہے۔ مثلاً اسلامی تاریخ کے مشہور زاہد اور صوفی بزرگ ابراہیم بن ادہم (وفات 160 ہجری) سے منقول ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page