Al-Risala · September 2025 · page 6

ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۶

مَا قَاسَيْتُ فِيمَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مُفَارَقَةِ الْأَوْطَانِ (حليۃ الاولیاء، جلد 7، صفحہ 380)۔ یعنی، میں نے جن چیزوں کو چھوڑا، اُن میں سے کسی چیز کی تکلیف مجھ پر اتنی شدید نہ تھی جتنی وطن کی جدائی۔

علامہ راغب اصفہانی پانچویں صدی ہجری (11 ویں صدی عیسوی) کے مشہور مسلم عالم، مفسر اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب محاضرات الأدباء (جلد دوم، صفحہ 652) میں وطن کی محبت کے موضوع پر دو مستقل عناوین قائم کیے ہیں۔ اس کتاب میں وطن سے محبت کے تعلق سے ایک بامعنی قول یہ ہے : حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طَيِّبِ الْمَوْلِدِ (وطن کی محبت نیک فطرت انسان کی صفت ہوتی ہے)۔ اسی طرح ایک اور قول یہ ہے : لَوْلَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرِبَتْ بِلَادُ السُّوْءِ (اگر وطن سے محبت کا جذبہ نہ ہوتا تو وہ خطہ ویران ہوجاتے، جہاں ظلم و بدعنوانی پائی جاتی ہے)۔ اسلامی لٹریچر میں اس نوعیت کے متعدد دلائل اس حقیقت کی نہایت واضح طور پر نشان دہی کرتے ہیں کہ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، وہ ایمان کے منافی نہیں، بلکہ اخلاق اقدار کے عین مطابق ہے۔ یہ اقوال اس امر کو اجا گر کرتے ہیں کہ کسی انسان کا اپنے وطن سے محبت کرنا تنگ نظری یا تعصب نہیں، بلکہ انسانی اخلاقی اور فطرت کا ایک لازمی جزء ہے۔ یہ خلاف اخلاق بات ہوگی کہ وہ سر زمین جو آپ کو سب کچھ فراہم کرے، آپ کو اس سے کوئی انس یا تعلق نہ ہو۔ سچی حب الوطنی ایک جوڑنے والی قوت ہوتی ہے، پھوٹ ڈالنے والی نہیں۔ یہ دین کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تقویت کا ذریعہ ہے۔ زیرِ نظر کتابچہ، مولاناوحیدالدین خان کی تحریروں پر مشتمل ہے۔ ان صفحات میں قاری کو وطن سے محبت کا ایک نیا زاویہ دیکھنے کو ملے گا۔ یعنی یہ کہ اخلاص، اخلاق، مثبت طرزِ فکر اور تعمیری سرگرمیوں کے ساتھ وطن سے محبت، ایک بہتر دنیا کی تشکیل کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتابچہ کو کامیابی عطا فرمائے، اور مصنف کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، آمین۔

ڈاکٹر فریدہ خانم، نئی دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page