Al-Risala · September 2025 · page 10

I love Gandhi, but I love India more than Gandhi

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۰

سلسلہ میں میں نے کہا کہ گاندھی پچھلے انڈیا میں بھی کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ 1947 میں انھیں خود یہ کہنا پڑا کہ: اب میری کون سنے گا۔ پھر گاندھی جب پچھلے انڈیا میں کامیاب نہیں ہوئے تو آج کے انڈیا میں وہ کس طرح کامیاب ہوتے۔ ایک ہندو پروفیسر نے میری بات سن کر کسی قدر برہمی کے ساتھ کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے درد بھرے لہجے میں کہا:

I love Gandhi, but I love India more than Gandhi

میری یہ بات سن کر پروفیسر صاحب خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کسی نے بھی میری تنقیدی تقرير کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ میری یہ تقریر مکمل طور پر انگریزی اخبار پائینیر (نئی دہلی) کے شمارہ 26 جنوری 1997 میں چھپ چکی ہے۔

میری بعض تنقیدوں کو سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ ہمارے قومی لیڈروں کی اتنی سخت آلوچنا کرتے ہیں۔ آخر کس نے آپ کو اس کا ادھیکار دیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میری دیش بھکتی (حب الوطنی) سے مجھ کو یہ ادھیکار پراپت ہوا ہے۔ یہ سن کر وہ چپ ہو گئے ۔ (ہند- پاک ڈائری، صفحہ 32-30)

حب الوطنی

28 مارچ 1998 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس کا اہتمام اردو اکادمی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور کارناموں کا جائزہ تھا۔ اس موقع پر میں نے بھی ایک تقریر کی۔ میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک حب الوطنی کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہا کہ 20 ویں صدی میں لمبی مدت تک مسلم مفکرین کسی نہ کسی طور پر اس نظریہ سے متاثر رہے ہیں، جس کو عام طور پر پان اسلامزم (pan islamism) کہا جاتا ہے۔ اس دور جدید کے بہت سے مفکرین کے نام شامل ہیں۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی (1897-1838)، محمد اقبال

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page