نیشنلزم اور حب الوطنی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۹
گولی مار دے تو یہاں مجھے کو نئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مگر صورتِ حال کی نزاکت کی پروا کیے بغیر میں نے اس سے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو ایک ہندووستانی شہری کی حیثیت سے میں کہہ سکتا تھا۔ مذکورہ فوجی میجر سے جو باتیں میں نے کہی، ان میں سے ایک بات یہ تھی اگر انڈیا کیے ساتھ آپ کی لڑائی کا انحصار ہمارے جیسے لوگوں سے فوجی راز حاصل کرنے پر ہے تو آپ اپنی لڑائی جیت چکے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں جنگی راز اتنا ٹاپ سیکریٹ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وزیر دفاع کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں اس قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد سلام اور معذرت کے بغیر خیمہ سے باہر نکل آیا۔ مذکورہ میجر مکمل خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتا رہا۔ جب میں باہر نکلا تو وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر آ گیا۔ اس نے کہا: مولانا صاحب، ہم کو آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات میں نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فوجی خیمے میں اس وقت کہی جب کہ اگر وہ فوجی افسر مجھے گولی مار دیتا تو شاید میری موت اس طرح واقع ہو جاتی کہ اس کی کوئی خبر بھی نہ بنتی۔ جس وقت میں نے پاکستان کے فوجی افسر سے یہ باتیں کہیں اس وقت میرا مذہب، میرا لباس، میری بولی، میری خاندانی روایات، سب کچھ ایک عام ہندو سے مختلف تھیں۔ مگر قومی احساس کے اعتبار سے اس وقت میرا احساس عین وہی تھا جو ایک دیش بھگت ہند کا احساس ہو سکتا ہے۔ میری زندگی کے سیکڑوں واقعات میں سے یہ صرف چند واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ مجھے اپنے وطن سے کتنا زیادہ لگاؤ ہے۔ جو ہندو مجھے قریب سے جانتے ہیں، مثلاً سوامی اوم پورن سوتنترا (نئی دہلی) یا سوامی چیدانند (رشی کیش)، وغیرہ، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے اندر جو دیش بھکتی ہے اس کی مثال ہم نے مہاتما گاندھی کے بعد کسی اور کے اندر نہیں دیکھی۔ میرے دل کی یہی تڑپ ہے جو مجھ کو مذکورہ قسم کی باتیں کہنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس نوعیت کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ 20 جنوری 1997 کوئی دہلی میں پانیور ہاؤس میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ اس میٹنگ کا موضوع تھا— کیا گاندھی آج کے ہندوستان میں کامیاب ہوتے۔ میں نے اس موقع پر ایک لمبی تقریر کی ۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues