Al-Risala · September 2025 · page 12

حب الوطنی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۲

مطلب نہیں کہ اسلام میں بھی قومیت کی بنیاد وطن پر قائم ہے۔ مگر یہ تشریح درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔ فقہ کا ایک مستقل اصول یہ ہے کہ چیزوں کی اصل (بنیادی حکم) ان کا مباح ہونا ہے (الأصل في الأشياء الإباحة)، جب تک کہ حرام ہونے کی دلیل نہ ملے : Everything is lawful unless it is declared unlawful. یہاں چیز سے مراد دنیوی معاملات ہیں۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ قومیت کے مسئلہ کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی براہِ راست حکم موجود نہیں۔ قرآن وحدیث میں نہ یہ کہا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد مذہب پر ہے، اور نہ یہ کہ اس کی بنیاد وطن پر ہے۔ اس لیے اس معاملہ کو ان امور سے متعلق سمجھا جائے گا، جن کی بابت پیغمبر اسلام نے کہا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم اپنی دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت اور آخرت کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں، مگر جو امورِ نظام دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔

اس معاملہ میں ایک پیغمبرانہ واقعہ سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا۔ انھوں نے مدینہ آ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اور مدعی نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فَإِنِّي قَدْ أُشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ)۔

مسیلمہ کے دونوں سفیروں سے کلام کرنے کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا: أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 600)۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page