Al-Risala · September 2025 · page 13

حب الوطنی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۳

پیغمبر اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا ، جو دوسری قوموں کا طریقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس کو ہر حال میں محترم سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ وطنیت کے معاملہ میں دنیا میں جس اصول کو عمومی طور پر مان لیا جائے وہی شریعت میں بھی اختیار کر لیا جائے گا۔ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر عقیدہ اور مذہب کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔ ایک بار میں ایک جلسہ میں شریک تھا۔ وہاں ایک صاحب نے اپنی تقریر میں وطن کی محبت کی اہمیت بیان کی ، اور کہا کہ اسلام میں بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ (الموضوعات للصغانی، حدیث نمبر 81)۔ یعنی، وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایک عالم دین جو اس وقت جلسہ میں موجود تھے، انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطن من الایمان کوئی حدیث نہیں ہے، یہ تو صرف ایک عربی مقولہ ہے۔

میں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حب الوطن من الایمان حدیث نہیں۔ مگر وہ سادہ طور پر صرف عربی کا ایک مقولہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کا ایک مقولہ ہے، جو انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔

تاہم کچھ علما نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن الالالسخاوی (وفات 1497ء) نے اس قول کے بارے میں لکھا ہے: لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ، وَمَعْنَاهُ صَحِيحٌ (المقاصد الحسنة، حدیث نمبر 386)۔ یعنی، میں اس حدیث سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، امام سخاوی کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیث رسول کے طور پر ان کو نہیں ملا، لیکن دین اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔ کتابوں کے ذخیرے میں بہت سی چیزیں ہیں، جو خواہ حدیث رسول نہ ہوں، لیکن وہ یقینی طور پر حدیث فطرت ہیں۔ اس بات کو بتانے کے لیے محدثین نے وہ اصول بنایا ہے، جس کو سخاوی کے حوالے سے اوپر بیان کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page