Al-Risala · January 2025 · page 29

دوسرا قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۲۹

ایک خط

مولانا، آپ کی تقریر (5 جولائی 2020) کو سن کر جو تاثر ذہن میں آیا، وہ لکھ رہا ہوں۔ اس تقریر کا عنوان تھا: مارکس اور مودودی کا تقابل۔ اس تقریر پر میرا تاثر درج ذیل ہے: میرے لیے یہ ایک نئی بات ہے کہ کارل مارکس نے اخلاقیات کو حکومت کا موضوع بنا دیا، جب کہ اخلاقیات انسان کی اپنی ذات کا موضوع ہے۔ یہ کارل مارکس کی غلطی تھی۔ یہی غلطی مولانا مودودی صاحب نے قرآن کی آیت أَقِيمُوا الدِّينَ (42:13) کی تشریح میں کی۔ انھوں نے أَقِيمُوا الدِّينَ ( دین کو قائم رکھو ) کو حکومت کا موضوع بنا دیا۔ جب کہ انسان کی اپنی ذات کا موضوع تھا۔ دونوں کی غلطی میں بالکل درست اشتراک ہے۔

مودودی صاحب کی غلطی نے أَقِيمُوا الدِّينَ کو حکومت کا موضوع بنا یا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ معاشرے میں اگر کچھ برائیاں اور کمیاں دکھائی دینے لگیں تو ذہن فورا اس طرف گیا کہ اس کی وجہ اسلامی حکومت کا نہ ہونا ہے۔ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو وہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات کی پیروی کرنے پر مجبور کرتی۔ اس کے برعکس، اگر ہم أَقِيمُوا الدِّينَ کو انسان کی اپنی ذات کا موضوع بنا ئیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ معاشرے میں جب کبھی برائیاں دیکھیں گے تو ذہن اس طرف جائے گا کہ ان برائیوں اور وجہ صحیح ذہن سازی کا نہ ہونا ہے، یا صحیح تربیت کی۔ اب ذہن سازی کے لیے فوری طور پر اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جاتا ہے۔

صحیح ذہن سازی کے لیے کسی حکومت کی ضرورت نہیں، ذہن سازی کے لیے صالح انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی افراد کی تربیت کے لیے اسلامی حکومت کا نہ ہونا کوئی رکاوٹ نہیں۔ لیکن مولانا مودودی صاحب کی نظر سے دیکھیں گے تو اسلامی حکومت کا قائم نہ ہونا برائی کی فوری وجہ بن کر سامنے آئے گا۔ اب پہلا کام یہ ہوگا کہ حکومت حاصل کرو، اور اسے اسلامی حکومت بناؤ۔ پھر یہیں سے موجودہ حکومت کے خلاف ذہنی طور پر بغاوت شروع ہو جاتی ہے، جو بعد کے مرحلے میں عملی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page