Al-Risala · September 2025 · page 18

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۸

مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں : (وَإِنَّ يَهُودَ بَنِي عَوْفٍ أُمَّةٌ مَّعَ الْمُؤْمِنِينَ) (سیرت ابن ہشام ، جلد 1 ، صفحہ 503)۔ یعنی ، اور یہ کہ بنو عوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کی بنیاد ہمیشہ وطن ہوتا ہے، نہ کہ مذہب۔ (ڈائری ، 26 اپریل 2004) اس جملہ میں امت کا لفظ تقریباً اسی معنی میں ہے جس معنی میں آج کل قوم (nation) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی مدینہ کے یہودی اور مدینہ کے مسلمان جو ایک ساتھ ایک وطن میں رہتے ہیں دونوں ہم قوم ہیں ، دونوں ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اصول کو ہندوستان پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک امت یا ایک قوم ہیں۔ دونوں کی قومیت (nationhood) ایک ہے۔ یہی معاملہ دوسرے ان ملکوں کا ہے جہاں مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (ڈائری ، یکم اکتوبر 2003)

قوم اور قومیت

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے غیر مومن مخاطبین کو اے میری قوم (يَاقَوْمِ) کے لفظ سے خطاب کیا ہے (مثال کے طور پر قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے، 85, 79, 67, 7:61)۔ اس قرآنی بیان کے مطابق، مومن اور غیر مومن کی قومیت (نیشکنلٹی) ایک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وطن سے ہے۔ مذہبی اشتراک کو بتانے کے لیے ملّت کا لفظ بولا جائے گا (النساء، 125؛ 4) ، اور وطنی اشتراک کو بتانے کے لیے قومیت کا لفظ (ہود، 11:89)۔ موجودہ زمانہ میں وطن (home land) کو قومیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا اصول بھی یہی ہے۔ اسلام کے مطابق بھی وطن ہی قومیت کی بنیاد ہے۔

اس اعتبار سے دو قومی نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ ہم الگ قوم ہیں اور دوسرے لوگ الگ قوم۔ جب کہ صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کا ہم قوم سمجھیں، وہ دوسروں کو اے میری قوم کے لوگو، کہہ کر خطاب کر سکیں، جیسا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page