Al-Risala · September 2025 · page 17

قومیت کی بنیاد وطن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۷

کے ذہن میں اسلام کا وہ تاریخی تصور تھا، جو بعد کو مسلم ایمپائر کے زمانے میں بنا۔ مسلم ایمپائر کے دور میں سارے مسلمانوں کا وطن ایک ہی مانا جاتا تھا، لیکن دوسری جنگ کے بعد جب مسلم ایمپائر ٹوٹ گیا اور پچاس سے زیادہ الگ الگ ملک بن گئے تو اب مسلمانوں کی قومیت اُن کے موجودہ وطن کی نسبت سے متعین کی جائے گی۔ اس معاملے میں مسلم ایمپائر کا زمانہ کوئی معیاری چیز نہیں، قدیم مسلم ایمپائر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا ایک وقتی ظاہرہ تھا، وہ اسلام کا دوامی حصہ نہیں۔ (ڈائری، 12 دسمبر 2007)

قومیت کی بنیاد وطن

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ آج کل مسلم امہ کا لفظ جس عالمی معنی میں بولا جاتا ہے وہ اس سے پہلے کبھی اسلامی دور میں موجود نہ تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مسلم امہ ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقی تصور نہ پہلے تھا، نہ اب ہے۔ مسلمانوں کی جو بڑی بڑی سلطنتیں بنی ہیں وہ بھی ذو معنی رہی ہیں مثلاً عثمانی ایمپائر کے دوران ارمنین ایک الگ ملت تھی اور اسے ملت ہی بولا جاتا تھا اور ملت کا لفظ بالعموم چھوٹی اقوام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مسلمانوں میں قومی ریاستوں کا وجود بہت شروع سے رہا ہے۔ تمام مسلمہ اقوام کی شناخت الگ الگ علاقائی لسانی بنیادوں پر یا نسلی بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ کیوں کہ اسلام مذہب ہے قوم نہیں۔ میثاق مدینہ میں بھی یہ چیز صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے، جب یہود بھی مسلم امہ میں شامل تھے۔ یہ تصور وقت اور حالات کی مطابقت میں ڈھلتا رہا ہے۔ لہٰذا میری نظر میں ہمارے بین الاقوامی معاملات اور تعلقات انسانی بنیادوں پر ہونے چاہئیں ۔ (سنڈے میگزین 18 مئی 2003)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور پہلی اسلامی اسٹیٹ بنائی تو اس وقت وہاں کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے، اس وقت آپ نے ایک ڈکلریشن جاری کیا جس کو عام طور پر میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میثاق میں آپ نے لکھا تھا، جس کا ایک جملہ یہ تھا کہ یہود

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page