قوم اور قومیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۰
طاغوتی نظام کا یہ نظریہ بعض افراد کے انتہا پسندانہ ذہن کی پیداوار تھا، اُس کا خدا اور رسول والے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق نے اس نظریہ کے وابستگان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے دست بردار ہو جائیں۔ چنانچہ اب یہ تمام لوگ بلا اعلان عملی طور پر اس انتہا پسندانہ نظریہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہی معاملہ قومیت کا بھی ہے۔ مغرب کے کچھ انتہا پسند مفکرین نے قومیت کو توسیع دے کر مکمل مذہب کے روپ میں پیش کیا۔ مگر حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر یہ نظریہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ اب عملی طور پر قومیت کا تصور تقریباً اسی فطری معنی میں بولا جاتا ہے جس فطری معنی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔
بیسویں صدی کے نصف اوّل میں اٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے قومیت اور وطنیّت کے معاملہ میں اس غیر فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ انھوں نے قومیت اور وطنیّت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اُس کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے:
اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے قومیت اور وطنیّت کے بارے میں یہ نظریہ بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دور کے اکثر مسلم علما اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہب یا اسلام کے لیے موت وحیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اتار چڑھاؤ مذہب اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا۔ مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا: زوالِ دولت عثماں زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک یہ تصور یقینی طور پر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا "شرع و ملت" کے لیے زوال کے ہم معنی ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہو سکتا۔ دورِ اول میں خلافت راشدہ ختم ہوئی مگر اسلام باقی رہا۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues