Al-Risala · September 2025 · page 21

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۱

کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندوستان کی مغل سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر سلطنتوں کا یہ زوال اسلام کے زوال کا سبب نہ بن سکا۔

اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات اُبھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنيت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخرکار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانون فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کر کے اُنہیں میدانِ حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ قومیت کا مسئلہ سید جمال الدین افغانی 1838 میں پیدا ہوئے اور 1897 میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ اُس نظریہ کی ایک علامت ہیں جو ترکی کے سلطان عبدالحمید کی حمایت سے شروع ہوئی اور جس کو اتحادِ اسلامی (پان اسلامزم) کہا جاتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ میں تقریباً مسلم دنیا انگریزوں اور فرانسیسیوں کی سیاسی ماتحتی میں آ گئی تھی۔ جمال الدین افغانی اِس مغربی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے اُٹھے۔ اس مقصد کو طاقت دینے کے لیے انہوں نے اتحادِ اسلامی کا نظریہ بنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام دنیا کے مسلمان، خواہ وہ اکثریتی ملک میں ہوں یا اقلیتی ملک میں، وہ سب کے سب ایک واحد اُمّت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سب کے سب ایک ہی سیاسی وحدت میں بندھے ہوئے ہیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی نظریہ کے مطابق کہا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک انٹرنیشنل پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آیت اللہ خمینی اور دوسرے رہنماؤں نے اس کو اَلأُمّۃ (Ummah) کا لفظ دیا جو بہت جلد تمام دنیا کے مسلمانوں میں مقبول ہوگیا۔ اسی نظریہ کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page