قوم اور قومیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۳
صورت میں نظری یا اعتقادی پوزیشن یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی قومیت (nationality) اسلام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کی سیاسی وفاداری مشترک طور پر اُن کے مذہب کے ساتھ وابستہ ہے۔ اب جب کہ ہر ملک میں نیشنلٹی کو وطن (home-land) کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تو یہ نظریہ ہر جگہ مقامی تقاضوں سے متصادم ہو گیا ہے۔
مثلاً امریکہ یا برطانیہ یا انڈیا میں جدید تصور قومیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی سیاسی وفاداریاں صرف اپنے وطن کے ساتھ وابستہ ہوں، اُن کی کوئی خارج از وطن سیاسی وفاداری (extra-terrestrial loyalty) نہ ہو۔ جب کہ الامہ کا نظریہ برعکس طور پر یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کی وفاداریاں بین اقوامی اسلام کے ساتھ ہونی چاہئیں، نہ کہ ملکی وطنیت کے ساتھ۔ اس تضاد نے ساری دنیا کے ہر اُس ملک میں مسلمانوں کی نیشنل وفاداری کو مشتبہ کر دیا ہے جہاں مسلمان ایک اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔
یہ ایک بے حد سنگین مسئلہ ہے۔ خالص نظریاتی طور پر مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ اپنے اعلان کردہ موقف کے مطابق، یہ کہیں کہ ہم عالمی اسلامی قومیت کے فرد ہیں، ہم مقامی قومیت کے قائل نہیں۔ وہ اس موقف کو اختیار کریں اور پھر اُس کی ہر قیمت کو دل کی آمادگی کے ساتھ ادا کریں۔ مثلاً اگر کسی ملک میں اُن کی وطنی وفاداری کو مشتبہ سمجھ کر اُنہیں ملکی فوج میں نہ لیا جائے، اُنہیں وزارت خارجہ میں شامل نہ کیا جائے، اُنہیں سفیر کا عہدہ نہ ملے، ملک کی بین اقوامی نمائندگی کے فورم میں اُن کو جگہ نہ دی جائے، اُن کو اپنے ملک میں درجہ دوم کا شہری سمجھا جائے تو اُنہیں چاہیے کہ وہ اُسے اپنے عقیدہ کی فطری قیمت سمجھ کر اُس کو قبول کریں۔ مسلمانوں کے لیے دوسرا چوائس یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ الامہ کا مذکورہ بین اقوامی نظریہ کچھ مسلم رہنماؤں کا ذاتی نظریہ تھا جو انہوں نے مخصوص حالات کے ردعمل میں اختیار کیا اور اُس کو غلط طور پر اسلام کا نام دے دیا۔ اب ہم اس نظریہ کو رد کرتے ہیں اور جیسا کہ مولانا حسین احمد مدنی نے اعلان کیا تھا، ہم اس رائے کو اختیار کرتے ہیں کہ عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues