Al-Risala · September 2025 · page 22

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۲

طرح بیان کیا ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر یہ بین اقوامی نظریہ نو آبادیاتی دور میں حالات سے متصادم نہیں معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت دنیا کے بیشتر ملک عملاً ایک ہی سیاسی نظام کے تحت تھے۔ تقریباً تمام مسلمان اِس ایک سیاسی نظام کے شہری شمار ہوتے تھے۔ مگر جب نو آبادیاتی نظام ٹوٹا اور نیشنلزم کا دور آیا تو بہت سی الگ الگ سیاسی وحدتیں بن گئیں۔ پہلے اگر ایک ایمپائر کی وفاداری کا مسئلہ تھا تو اب ایک سو قومی وحدتوں کی الگ الگ وفاداری کا مسئلہ سامنے آ گیا:

Pan-Islamism was the dominant ideology of the Muslim world of the 19th century before the rise of Nationalism. (Encyclopædia Britannica, Vol. 7, p. 719)

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ بدلا تو مسلمان فکری اعتبار سے ایک پیچیدہ صورت حال میں مبتلا ہو گئے۔ جو لوگ عالمی قومیت کے ڈھانچہ میں اپنی سیاسی شناخت بنائے ہوئے تھے، اب اُن کو مقامی قومیت کے ڈھانچے میں دوبارہ اپنی سیاسی شناخت کو تلاش کرنا پڑا۔ اس نازک وقت میں، میرے علم کے مطابق، پوری مسلم دنیا میں صرف ایک عالم تھا جس نے اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ مولانا سید حسین احمد مدنی (1957-1879) تھے۔ انہوں نے 1947 سے پہلے کی ہنگامی سیاست کے زمانہ میں یہ جرأتمندانہ اعلان کیا کہ : فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں (شرح ارمغانِ حجاز، یوسف سلیم چشتی، 1982، نئی دہلی ، صفحہ 272)۔ یہ بلاشبہ ایک اجتہادی رہنمائی تھی۔ مگر بدقسمتی سے مولانا موصوف کی وفات کے بعد خود دیوبند کے علما نے یہ اعلان کر کے اُس کو کالعدم کر دیا کہ حضرت نے اس سلسلہ میں جو فرمایا وہ صرف ایک خبر (informal observation or report) تھی، وہ انشا (formal legal declaration) نہ تھی۔

یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ بے حد نازک معاملہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں انتہائی غیر جانبدارانہ انداز کے ساتھ غور کیا جائے۔ مولانا حسین احمد مدنی کے موقف سے رجوع کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page