Al-Risala · September 2025 · page 25

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۵

ابن القیم الجوزية، جلد 3، صفحه 11؛ مجلة الاحکام العدلية، ماده: 39)۔ تشریع الہی کا یہ اصول صرف پیغمبر اسلام سے پہلے کے لوگوں کے لیے نہیں تھا۔ بلکہ وہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کے لیے بھی اسی طرح مطلوب ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پچھلی امتوں کو براہِ راست پیغمبر کے ذریعہ اس تبدیلی حکم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اب ختم نبوت کے بعد علما کے اجتہاد کے ذریعہ تبدیلی حکم کا یہ کام انجام پائے گا۔

اس تشریعی اصول کے مطابق، بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ قومیت (nationality) کے معاملہ میں موجودہ زمانہ میں جو تصور عالمی سطح پر رائج اور مسلم ہو گیا ہے اس کی روشنی میں اجتہاد کر کے دوبارہ اس معاملہ میں شریعت کا موقف متعین کیا جائے گا۔ اور یہ موقف وہی ہے جس کا اعلان 1947 سے پہلے کے زمانہ میں مولانا سید حسین احمد مدنی نے کیا تھا۔

شرعی موقف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ ایک عقیدہ اور ایک مذہب رکھتے ہیں مگر جہاں تک قومیت کا تعلق ہے وہ ملک کی نسبت سے متعین ہوگی۔ یعنی ہر ملک کے مسلمانوں کی قومیت وہی قرار پائے گی جو اس ملک کے دوسرے گروہوں کی ہندوستانی قومیت اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع ہے — ہندوستانی قومیت کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے: What Constitutes Indian Nationalism یہ سوال بلاشبہ نہایت اہم قومی سوال ہے۔ اس سوال کے حل پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے۔ اس اعتبار سے اس سوال کو 1947 ہی میں آخری طور پر طے ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی اس سوال پر بحث جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً نصف صدی گزرنے پر بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب معلوم نہ کیا جا سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page