Al-Risala · September 2025 · page 26

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۶

اس غیر معمولی تاخیر کا سابب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ہے۔ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ کچھ چیزیں نیشنل (مشترک) ہوتی ہیں، اور کچھ چیزیں پرائیویٹ (غیر مشترک) ۔ نیشنل حصہ میں یکسانیت مطلوب ہوتی ہے، اور پرائیویٹ حصہ میں تعدد نیشنل معاملات کو اگر ہر آدمی کے ذوق (taste) پر چھوڑ دیا جائے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ اسی طرح پرائیویٹ حصہ میں اگر تمام لوگوں کو ایک روش پر قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو سارا سماج انتشار کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

اس مسئلہ کے الجھاؤ کے ذمہ دار مختلف فرقوں کے وہ پر جوش لوگ ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ رکھ سکے۔ انھوں نے یہ غلطی کی کہ ایک نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ بنانے کی کوشش کی، اور ایک معاملہ جو پرائیویٹ تھا اس کونیشنل درجہ دینے پر اصرار کیا۔ اس قسم کی غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ کوشش صرف انتشار پیدا کرسکتی تھی، اور اس نے صرف وہی پیدا کیا۔ مثال کے طور پر ہمارے جن لیڈروں نے ”کامن سول کوڈ“ کی دفعہ دستور ہند میں شامل کی، انھوں نے ایک پرائیویٹ معاملہ کونیشنل بنانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ شادی بیاہ یا نکاح و طلاق کا معاملہ لوگوں کی پرائیویٹ زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ہر ایک کا انفرادی معاملہ ہے، نہ کہ پورے ملک کا قومی معاملہ۔ اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دستوری دفعہ نے غیر ضروری بحث پیدا کرنے کے سوا ب تک کچھ اور نہیں کیا۔

اسی طرح کچھ مسلمان پاکستان کی جیت پر خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس بنا پر یہ ہمارے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہے۔ مگر یہ نیشنل معاملہ کو پرائیویٹ معاملہ بنانا ہے۔ انڈیا ہمارا وطن ہے۔ جب بھی انڈیا کا مقابلہ کسی دوسرے ملک سے ہوگا، خواہ وہ کرکٹ کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں، تو ہمارے جذبات لازمی طور پر اپنے وطن کے ساتھ ہوں گے۔ اس معاملہ میں انفرادی روش ہر گز قابل برداشت نہیں ہوسکتی۔ نان کامن کو کامن بنانا جتنا غلط ہے، اتناہی کامن کو نان کامن بنانا بھی غلط ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page