Al-Risala · September 2025 · page 27

قوم اور قومیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۷

اس مسئلہ کو سادہ اور فطری طور پر سمجھنے کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کو خاندان کی سطح پر دیکھا جائے۔ خاندان کسی قوم کی ابتدائی یونٹ ہوتا ہے۔ بہت سے خاندان کے مجموعہ ہی کا نام نیشن ہے۔ اب دیکھیے کہ خاندان کی سطح پر اس مسئلہ کی نوعیت کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خاندان کی سطح پر ہمیشہ کچھ باتیں کامن انٹرسٹ کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی رائے صرف ایک ہوتی ہے۔ اور ان کے علاوہ کچھ چیزیں انفرادی ذوق (taste) کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔

کامن انٹرسٹ میں مثال کے طور پر ایک اہم چیز معاشی یا مالی انٹرسٹ ہے۔ وہ چیزیں جو فیملی کے معاشی انٹرسٹ سے تعلق رکھتی ہوں ان میں ہر ایک کی سوچ بالکل یکساں ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں فیملی کے تمام ممبر بلا اختلاف ایک ہی نقطہ نظر کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں اگر کئی نقطہ نظر چلائے جائیں تو خود فیملی کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ مگر جہاں تک انفرادی ٹیسٹ کا معاملہ ہے، تو یہاں ہر ایک کا کیس الگ الگ بن جاتا ہے۔ مثلاً کوئی ایک قسم کا کھانا پسند کرتا ہے اور کوئی دوسرے قسم کا کھانا۔ کوئی ویسٹرن لباس پہنتا ہے اور کوئی ایسٹرن لباس۔ کسی کو ادب سے لگاؤ ہوتا ہے اور کسی کو سائنس سے۔ کوئی کٹر مذہبی ہوتا ہے اور کوئی مذہب کے معاملہ میں لبرل ہوتا ہے۔ کسی کو ایک رنگ کا فرنیچر پسند ہوتا ہے اور کسی کو دوسرے رنگ کا فرنیچر، وغیرہ۔

اسی دوگانہ اصول پر تمام خاندانوں کا نظام چل رہا ہے۔ خواہ وہ ہندو خاندان ہو یا مسلم خاندان، یا اور کسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا خاندان ۔ ہر ایک کے لیے فطرت کا یہی اصول ہے، اور دنیا میں ہر جگہ یہی اصول کارفرما ہے۔

نومبر 1991 میں شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک سیمینار تھا۔ اس میں مجھے شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page