Al-Risala · September 2025 · page 30

Your freedom ends where nose begins.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۰

تھا۔ اس نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ تم کو آزادی حاصل ہے۔ مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے:

Your freedom ends where nose begins.

حقیقت یہ ہے کہ ہمالیہ پہاڑ اور بحر ہند کے درمیان واقع ایک زمینی خطہ جس کو ہمارے دستور نے "انڈیا" کے طور پر ڈیفائن کیا ہے، اس میں بسنے والا ہر آدمی انڈین ہے۔ یہ سب کے سب لوگ ایک قوم ہیں۔ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی قومی سوچ کو اپنی شناخت بنائیں اور باہم مل جل کر زندگی گزاریں۔

مگر اس وسیع قومی مجموعہ کے اندر جو افراد آباد ہیں، اپنے نجی دائرہ میں ان کا طرز زندگی (mode of life) یکساں نہیں ہو سکتا۔ اور نہ کسی بھی ملک میں وہ یکساں ہے۔ پہلے دائرہ کے لیے فطرت کا تقاضا ہے کہ سب کا طرز فکر ایک ہو۔ مگر عین اسی فطرت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ نجی دائرہ میں ان کے درمیان تنوع پایا جائے۔ ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے چار بھائی خاندان کے مشترک مفاد کے معاملہ میں تو ایک مشترک طرز فکر کے حامل ہوتے ہیں۔ مگر ذاتی دائرہ میں چاروں بھائیوں کا مزاج اور چاروں بھائیوں کی پسند الگ الگ بن جاتی ہے۔

معلوم ہوا وہ چیز جس کو ہم انڈین نیشن کہتے ہیں، اس کے دودائرے ہیں۔ ایک دائرہ میں یکسانیت مطلوب ہے اور دوسرے دائرہ میں تنوع ۔ یکسانیت والے دائرہ میں تفرق برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مگر تنوع والے دائرہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک دوسرے کے درمیان فرق کو ٹالریٹ کرنا۔ پہلے معاملہ میں اگر ”من تو شدم تو من شدی" کا اصول کارفرما ہے تو دوسرے معاملہ میں Let us agree to disagree کا اصول۔ ہندوستانی قومیت کی کامیاب تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان دونوں حصوں کے فرق کو سمجھتے ہوئے ہر ایک کی صحیح رعایت کی جائے۔ پہلے دائرہ میں علاحدگی پسندی اتنی بری چیز ہے جس کو قومی غداری کہا جائے تو دوسرے دائرہ کے معاملہ میں برعکس طور پر Walt Whitman کا یہ قول

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page