Your freedom ends where nose begins.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۱
صادق آتا ہے کہ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنے اندر سموسکوں : I am large enough to contain all these contradictions. مادر وطن کہنا ایک صاحب نے ای میل کے ذریعے یہ سوال کیا کہ انڈیا کو مادر وطن کہنا جائز ہے یا ناجائز۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مادر وطن کو جائز یا ناجائز کی اصطلاح میں بیان کرنا اس کو غیر ضروری طور پر شرعی مسئلہ بنانا ہے۔ یہ انتہا پسندی (extremism) ہے کہ ہر چیز کو جائز یا ناجائز کا مسئلہ بنایا جائے ۔ اس مزاج کو شریعت میں غلو کہا گیا ہے، اور قرآن وسنت میں غلو کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ صحابی رسول وابصۃ الاسدی رسول اللہ کے پاس آئے۔ وہ بہت سا سوال کرنا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہا: استفت قلبك ( مسند احمد، حدیث نمبر 18006 )۔ یعنی اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ بلکہ اپنی فطرت کی آواز کی پیروی کرو۔ جو لوگ انڈیا کو مادر وطن کہتے ہیں۔ وہ اس معنی میں نہیں کہتے کہ وہ اسی جغرافیہ کے بطن سے پیدا ہو کر نکلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استعارہ (metaphor) کی زبان ہے۔ اصل یہ ہے کہ مادر وطن سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں مسقط الراس، مقام پیدائش (home land)، برتھ پلیس (birth place)، وغیرہ، کہا جاتا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگ مادر وطن کا لفظ اس معنی میں بولیں کہ وہ وطن کے پیٹ سے اسی طرح پیدا ہوئے ہیں، جس طرح کوئی شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ۔ تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہوگا، نہ کہ آپ کا معاملہ۔
آپ مادر وطن کا لفظ اپنے مفہوم میں بولیے۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ دیجیے کہ وہ کس معنی میں اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی زندگی کی ایک حکمت ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی حد(logical end)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues