گڈ انڈین
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۵
نکل آئے کہ یہ لوگ انسان کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ انسان سے واقف انیسویں صدی کا امریکی شاعر والٹ وھٹ مین (Walt Whitman) تھا جس نے کہا کہ:
I am large enough to contain all these contradictions. میں یہ کہہ رہا تھا اور رورہا تھا کہ بخدا میں ایک گڈ مسلم ہوں اور اسی کے ساتھ میں گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ میری شرافت انسانی کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ جس ملک میں پیدا ہوا، اس کا میں اچھا شہری نہیں ہوں۔ وطن کی محبت ایک خالص فطری جذبہ ہے۔ اور جس چیز کی جڑیں خود فطرت انسانی میں ہوں اس سے کوئی انسان کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر مہاتما گاندھی پیدا ہوں اور کہیں کہ میں تم کو گڈ انڈین ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہوں تو میں ایسا سرٹیفیکیٹ لینے سے انکار کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ کیا کسی بیٹے کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ماں کا اچھا بیٹا بننے کے لیے کسی اور کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرے۔ بخدا میں کسی گر وگولو الکر یا کسی گاندھی کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر ہی ایک گڈ انڈین ہوں۔ انڈیا کی محبت میں نکلنے والے میری تنہائیوں کے آنسو جن کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ بذات خود اس کے لیے کافی ہیں کہ میں اپنے آپ کو پورے معنی میں ایک گڈ انڈین سمجھوں۔ (پونہ کا سفر، نومبر 1996) سچی حب الوطنی اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ نام ہے اسٹیٹس کو پر راضی ہونے کا اور نزاعی امور میں یہی واحد قابل عمل طریقہ ہے کہ آدمی اسٹیٹس کو (status quo) پر راضی ہوجائے۔
راحت ابرار صاحب (علی گڑھ) خورشید احمد صاحب (بمبئی) اور دوسرے کئی مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں نے ہندوؤں کی کئی مجلسوں اور میٹنگوں میں کئی بار یہ کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان اچھا انڈین نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ میں پورے معنوں میں ایک مسلمان ہوں۔ اس کے باوجود پورے معنوں میں ایک اچھا انڈین ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر میں اچھا انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی اچھے انڈین نہیں تھے۔ میں نے مزید کہا کہ مجھے اچھا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues