احساسِ وطنيت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۶
انڈین بننے کے لیے کسی گرو گولوالکر کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے کسی سرٹیفکیٹ کے بغیر میں ایک اچھا انڈین ہوں۔
ان لوگوں سے میں نے مزید یہ کہا کہ ہندوؤں کے سامنے یہ کہنے کی جرأت مجھے اس لیے ہوتی ہے کہ مجھے انڈیا سے سچی محبت ہے۔ میں پورے معنی میں ایک محب وطن ہوں۔ مثلاً ایک مسلم ملک اور انڈیا کا کسی میدان میں آمنا سامنا ہو تو میں دل سے چاہوں گا کہ مسلم ملک کے مقابلے میں انڈیا کو جیت حاصل ہو۔ (ڈائری، 14 نومبر 1996)
احساسِ وطنيت
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپال یونیورسٹی میں عربی کے شعبہ میں استاد ہیں۔ وہ دہلی آئے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی نااہل مسلم قیادت نے ایک خطرناک کام یہ کیا ہے کہ اپنی بے حقیقت باتوں سے انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے احساسِ وطنيت چھین لیا۔ یہاں کے مسلمانوں کا حال اب یہ ہے کہ وہ صحیح معنوں میں ہندوستان کو اپنا وطن نہیں سمجھتے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دوسرا کوئی ملک انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح وہ ذہنی طور پر خود اپنے ملک میں بھی بے جگہ ہو گئے ہیں اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ اس ذہنیت نے مسلمانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ (ڈائری، یکم اکتوبر 1997)
موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے نیشنلزم اور حب الوطنی کے خلاف اتنا زیادہ غوغا برپا کیا کہ اب وہ کثیر تعداد مسلمانوں کی نفسیات کا جزء بن گیا ہے۔ اس کے لیے ایک دلیل یہ دی گئی کہ موجودہ نیشنلزم اور حب الوطنی سے مسلمانوں کا تشخص مٹ جائے گا، وہ ایک مستقل ملت کی حیثیت سے اپنا وجود ختم کر دیں گے۔ مگر یہ خطرہ صرف بے شعوری کی پیداوار تھا۔ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس کے نتیجہ میں مسلمان علیحدگی پسندی کا شکار ہو گئے۔ اور پھر ان کے ساتھ عملًا یہ پیش آیا کہ ایک طرف ان کی دنیوی ترقی رک گئی تو دوسری طرف ان کے دین کے تعلق سے عام انسانوں میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ (ناگپور کا سفر 1994)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues