Al-Risala · January 2025 · page 32

بڑھاپے کا دور

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۲

یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے علما اور رہنما کے یہاں جس دین کا چرچا ہے، اس میں معرفت اور دعوت جیسی اصل تعلیمات حذف ہوگئی ہیں، اس کے بجائے سارا زور ظاہری قوانین اور احکام پر دیا جارہا ہے، جس کو بطور خود وہ اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں۔ اسلام کو سیاسی اور سماجی نظام کے طور پر پیش کرنا، ان کا واحد نشانہ بن گیا ہے، اور معرفت اور دعوت جیسی چیزیں ان کے یہاں بھی اسی طرح حذف ہوگئی ہیں، جس طرح وہ اس سے پہلے یہود کے یہاں حذف ہوگئی تھیں۔

اس انحراف کو مبنی بر نظام اسلام (system-based Islam) کہا جاسکتا ہے۔ اس تصور دین کا نتیجہ ہے کہ امت میں ایک ابدی قسم کے ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ٹکراؤ ابتدائی طور پر دوسروں کو اپنا حریف (rival) سمجھنے کی صورت میں شروع ہوتا ہے، اور پھر بڑھ کر تشدد اور جنگ اور خودکش بمباری تک پہنچ جاتا ہے۔

قرآن کو اگر کتاب معرفت کے طور پر لیا جائے تو اس کا تقاضایہ ہوتا ہے کہ قرآن کی آیتوں میں تدبر کرو، قرآن کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کرو، اور پھر خالق کی معرفت میں جینے والے بن جاؤ، یعنی وہ انسان جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ہدایت خداوندی کی پیروی (following) کا نام ہے۔ مگر قرآن کی نظامی یا قانونی تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن عملی نفاذ (implementation) کی کتاب بن گیا۔ اب امت کا نشانہ یہ قرار پایا کہ وہ موجودہ قانونی اور سیاسی نظام کو الٹ کر بدلے، اور اس کی جگہ وہ قانونی اور سیاسی نظام نافذ کرے جس کو بطور خود اس نے اسلامی نظام کا درجہ دے دیا ہے۔

بڑھاپے کا دور

بڑھاپے کا دور کسی انسان کے لیے اس کی زندگی کا سب سے آخری دور ہے۔ یہ دور اس بات کا احساس دلانے کے لیے ہے کہ تکلیف انسان کے لیے کتنی زیادہ ناقابل برداشت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page