عالمی اسلامی اتحاد
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۳
عالمی اسلامی اتحاد
کوئی شخص عالمی انسانی اتحاد کی بات کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ”انسانیت“ کے نام پر ایک مرکزی حکومت قائم کی جائے اور ساری دنیا کے انسانوں کو طاقت کے زور پر اس کا تابع بنایا جائے۔ عالمی انسانی اتحاد انسانی قدروں کی بنیاد پر مطلوب ہے، نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر۔ یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام میں بلاشبہ یہ مطلوب ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں میں اتحاد ہو۔ حج کا عالمی اجتماع اسی کی ایک علامت ہے۔ مگر عالمی اسلامی اتحاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی ایک مرکزی حکومت قائم ہو، اور تمام دنیا کے مسلمان اس حکومت (یا خلافت) کے تحت سیاسی طور پر متحد ہو جائیں۔ عالمی اسلامی اتحاد بلا شبہ ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر عالمی اسلامی حکومت یا عالمی اسلامی خلافت محض ایک نعرہ ہے جو نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔
اسلام میں اصل اہمیت کی چیز خدا کی سچی معرفت ہے اور یہ کہ آدمی خدا کی مرضی کے مطابق دنیا میں جیے۔ ہر ایک خدا کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ ہر انسان اپنی پسند اور ناپسند کو خدا کی پسند اور ناپسند کے تابع بنالے۔ اسلامی اتحاد یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک خدا کو اپنا اللہ سمجھیں۔ وہ محمد رسول اللہ کو پیغمبر اور خاتم النبیین مانتے ہوں۔ سب یکساں طور پر قرآن کے اوپر ایمان رکھتے ہوں۔ سب کے دلوں میں یہ یقین زندہ ہو کہ موجودہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، اور آخرت کی اگلی دنیا اپنے عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ اسی طرح ساری دنیا کے مسلمانوں میں وہی اخلاق و کردار ہو جو قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص جب کسی مسلمان سے ملے تو وہ پیشگی طور پر یقین کر سکے کہ وہ اپنی عادت اور اپنے سلوک اور اپنے کردار کے اعتبار سے فلاں قسم کا انسان ہوگا۔
عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد فکری اور ایمانی یکسانیت ہے، نہ کہ عالمی نوعیت کا کوئی سیاسی اور حکومتی ڈھانچہ۔ اسلامی اتحاد اسلامی افراد کے آزادانہ فیصلے سے قائم ہوتا ہے۔ وہ سیاسی اقتدار کے زور پر نہ نافذ ہوسکتا اور نہ نافذ کیا جاسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues