برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۸
كَاَنِّيْ اُنْظُرُ اِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُوْلُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3477؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1792)، یعنی، "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال بیان کر رہے ہیں جس کو اُس کی قوم نے مار کر زخمی کیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! تو میری قوم کو معاف فرمادے کیوں کہ وہ جانتے نہیں۔ "
اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ نص پر مبنی ہے۔ جب کہ آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ تمام تر قیاس اور استنباط پر مبنی ہے اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیاس اور استنباط کے ذریعے کسی نص کی تردید نہیں ہوتی۔
2۔ اس معاملے میں آپ جیسے لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو مستقل طور پر دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے، مسلم اور کافر۔ اس تقسیم کی بنا پر آپ لوگوں کے نزدیک ایک طرف ابدی معنوں میں ایک قوم، مسلم قوم بن گئی ہے اور دوسری طرف ابدی معنوں میں ایک قوم غیر مسلم قوم۔ یہ تقسیم سراسر غلط ہے۔
نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں اسلام سے دور ہوتی رہیں گی اور غیر مسلموں میں سے لوگ سچائی کی دریافت کر کے اللہ کے اطاعت گزار بندے بنتے رہیں گے۔
اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو، بلکہ ہوم لینڈ پر ہو۔ کیوں کہ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماً نہیں بدلتی۔ آپ نے اپنے سوال میں جن آیات کا حوالہ دیا ہے، ان کے تفصیلی مطالعہ کے لیے میری تفسیر "تذکیر القرآن" اور میری کتاب "حکمتِ اسلام" کا چیپٹر "کفر اور کافر کا مسئلہ" ملاحظہ فرمائیے۔ نوٹ: یہ مضامین اردو اور انگریزی زبانوں میں کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues