Al-Risala · September 2025 · page 47

برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۷

اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو یٰأَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (اے ایمان والو) اور کافروں کو یٰأَیُّهَا الْکٰفِرُونَ (اے کافرو) کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کیا مؤمن اور فاسق برابر ہو سکتے ہیں ۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں (32:18)۔ وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اُس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اُس کو تم نہیں پوجتے۔ ہمارے رسول اور اُس کے ساتھیوں کا اپنا دین خالص، اور تمہارے لیے تمہارا دین (الكافرون، 6-1: 109)۔

قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟ تمہیں کیا ہوگیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (36-68:35)۔ قرآن میں اللہ کافروں کو حِزْبُ الشَّيْطٰنِ کہتا ہے اور مومنوں کو حِزْبُ الله کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (22, 58:19)۔

اور سورہ التوبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا (9:28) اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے قتال کریں۔ اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لا حاصل میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ (محمد صدیق ، اسلام آباد)

جواب

1۔ قرآن سے جب یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ: "اے میری قوم" (11:89)۔ تو یہی اُسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ کیوں کہ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیاء نے کیا: فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ (6:90)۔ یعنی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔

روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ أحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پر لگا۔ اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہو گیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول کے اُسوہ پر عمل کیا۔ عبداللہ بن مسعود اس واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page