Al-Risala · November 2025 · page 9

اللہ سے حب شدید

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۹

اللہ سے حب شدید

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حَب شدید کا حق دار صرف اللہ تعالی ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کچھ لوگ ایسے ہیں، جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر (نِد) ٹھہراتے ہیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا عذاب دینے والا ہے۔ (2:165) محبت کا مطلب گہرا قلبی تعلق (strong affection) ہے۔ محبت کا یہ گہرا تعلق صرف اللہ سے مطلوب ہے۔ مذکورہ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے حب شدید کا راز کیا ہے۔ اللہ کے ساتھ حب شدید بلاشبہ ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ یہ درجہ صرف اس انسان کو ملتا ہے۔ جو اس حقیقت کو شعوری طور پر دریافت کرے کہ قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کامل معنوں میں صاحب قوت (All-Powerful) ہے اور دوسرے تمام لوگ بشمول انبیاء اور اکابر کامل معنوں میں بے قوت (all-powerless) ہیں۔ یہی وہ دریافت ہے جس سے کسی آدمی کے اندر اللہ کے لیے وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے، جس کو حب شدید کہا گیا ہے۔

محبت کا تعلق ہمیشہ اسباب محبت سے ہوتا ہے۔ کسی انسان کے اندر اللہ کے لیے حب شدید صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کے ذہن میں اس کے لیے گہرا سبب ( strong reason ) موجود ہو۔ اس حقیقت کا زندہ شعور کہ قوت ساری کی ساری صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وہ گہرا سبب ہے۔ جو کسی انسان کے اندر اللہ کے لیے حب شدید کا چشمہ جاری کرتا ہے۔ مزید یہ کہ نفسیاتی اعتبار سے قوت کوئی قابل تقسیم چیز نہیں۔ ادنیٰ درجے میں بھی اگر کسی اور کے لیے قوت کو مان لیا جائے تو اللہ کے لیے حب شدید کا خاتمہ ہو جائے گا، خواہ یہ دوسرا شخص سیاسی معنوں میں صاحب قوت ہو یا باعتبارِ دولت صاحب قوت ہو یا اخروی نجات کا اختیار رکھتا ہو۔ اس آیت میں نِد کا لفظ آیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے مثل، ہم پلہ اور شریک، وغیرہ۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page