Al-Risala · November 2025 · page 10

اللہ سے حب شدید

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۰

آيت میں نِد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے کہ قوت کے اعتبار سے کسی کو ادنیٰ درجے میں بھی اللہ کے برابر نہ سمجھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں بے حد حساس تھے۔ ایک بار ایک صحابی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مَاشَاءَ اللهُ وَشِئْتُ ( جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں )۔ یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے سختی کے لہجے میں کہا: جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عِدْلًا (کیا تم نے مجھ کو اللہ کے برابر کر دیا)۔ تم کو اس طرح کہنا چاہیے: مَاشَاءَ اللهُ وَحْدَهُ (وہی ہوگا جو صرف ایک اللہ چاہے) مسند احمد، حدیث نمبر 2561۔

اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ. وَمَنْ يَعْصِهُمَا فَقَدْ غَوَى ( جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، وہ راہ راست پر ہے اور جوان دونوں کی اطاعت نہ کرے وہ بھٹکا ہوا ہے)۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ( تو قوم کا برا خطیب ہے) صحیح مسلم، حدیث نمبر 870۔ آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول دونوں کو ایک ضمیر ( pronoun ) میں جمع کر کے ہمسری پیدا کی جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نِد سے مراد صرف مخصوص نام نہیں ہے بلکہ اس میں ہر وہ عمل اور فکر شامل ہے جس سے ادنیٰ درجے میں بھی اللہ کی ہمسری کا شائبہ پیدا ہوتا ہو۔ حتیٰ کہ مذکورہ احادیث کے مطابق، اس معاملے میں خود پیغمبر کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اعتبار سے اسوہ ہیں۔ مذکورہ روایات سے اس معاملے میں آپ کا اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ایک مومن کو اتنا شدید ہونا چاہیے کہ وہ اللہ اور بندہ، حتیٰ کہ اللہ اور رسول کے درمیان ضمیر کی شرکت کو بھی گوارا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اتنی زیادہ ناپسند ہے کہ اسی پر آدمی کی جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، جَعَلَهُ اللهُ فِي النَّارِ (مسند احمد، حدیث نمبر 3811)۔ یعنی جو شخص کسی کو اللہ کا ہمسر بنائے، اللہ اس کو آگ میں ڈال دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے حب شدید ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ لیکن اللہ سے حب شدید کی توفیق صرف اس انسان کو ملتی ہے، جو اس شعور میں جینے والا ہو کہ قوت اور اختیار تمام تر صرف ایک اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا جو مخلوقات ہیں، ان کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہیں، خواہ وہ کوئی عام انسان ہو یا اللہ کا پیغمبر۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page