اطاعتِ رسول
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۳
اطاعتِ رسول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک سبق آموز واقعہ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں :
بعث رسول الله جيش الأمراء، فقال: عليكم زيد بن حارثة، فان أصيب فجعفر ابن أبي طالب، فإن أصيب جعفر فعبد الله بن رواحة، فوثب جعفر فقال: يا رسول الله، ما كنت أذهب أن تستعمل زيداً علي ! قال: امض، فإنك لا تدري أي ذلك خير ! فانطلقوا ( تاریخ الطبری، جلد 3، صفحه 40 ) ۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کے لیے لشکر بھیجا۔ ان کو آپ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زید بن حارثہ تمہارے سردار ہیں، وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب سردار ہوں گے۔ اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ سردار ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر جھپٹ کر اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، میں ایسے لشکر میں نہیں جاؤں گا جس میں آپ نے زید کو میرے اوپر سردار بنایا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ، کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون سا امر تمہارے لیے بہتر ہے۔ پھر وہ لوگ روانہ ہوگئے۔
مومن فرشتہ نہیں ہوتا۔ مومن بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کے باوجود مومن اور غیر مومن انسان میں بہت بڑا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ غیر مومن کے دل میں کوئی غلط خیال یا انحراف کی بات آجائے تو اس کے بعد وہ رکنا نہیں جانتا۔ وہ اپنے اسی خیال پر چل پڑتا ہے، خواہ اس کی غلطی اس پر کتنی ہی زیادہ واضح کی جائے۔ وہ دلیل کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔
اس کے برعکس، سچے مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو اس کی غلطی پر ٹوکا جائے اور اس کے انحراف پر اسے متنبہ کیا جائے تو وہ فوراً رک جاتا ہے۔ وہ اپنے خیال کو اپنا عمل نہیں بناتا۔ وہ اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔ وہ ہر وقت اپنی اصلاح کے لیے تیار رہتا ہے، خواہ اصلاح کی خاطر اس کو اپنی خواہش کے خلاف چلناپڑے۔ مومن حق کا پابند ہوتا ہے اور غیر مومن صرف اپنے نفس کا پابند۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues